السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. (بَابُ حُكْمِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمَأْمُومِينَ)
(مقتدیوں کے سامنے سے گزرنے کا حکم)
حدیث نمبر: 126
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّلاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منی میں جماعت کروا رہے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض صف کے آگے سے گزرا گدھی سے اترا گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا مجھ پر پوری جماعت میں سے کسی ایک نے بھی اعتراض نہ کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الصلاة على الراحلة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العلم، باب متی یصح سماع الصبی، رقم: 76، صحیح مسلم، الصلاة، باب سترة المصلی، رقم: 504»
Sunan Shafi Hadith 126 in Urdu