السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
287. (بَابُ كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ)
(مزدلفہ میں مغرب و عشاء کا طریقہ)
حدیث نمبر: 441
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلاةَ، فَقَالَ:" الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، جب گھاٹی سے گزرے تو سواری سے اترے قضائے حاجت سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز پڑھنی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے مزدلفہ میں ہے۔“ پھر سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو سواری سے اترے تب اچھی طرح وضو کیا پھر اقامت کہی گئی تو مغرب پڑھائی پھر ہر بندے نے اپنی جگہ اونٹ بٹھایا پھر نماز عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت و نفل) نہیں پڑھی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوضوء، باب اسباغ الوضوء، رقم: 139، صحیح مسلم، الحج، باب الافاضة من عرفات الى المزدلفة، رقم: 1280»
Sunan Shafi Hadith 441 in Urdu