السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
288. (بَابُ حُكْمِ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ)
(حج کو عمرہ میں بدلنے کا حکم)
حدیث نمبر: 443
عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ، وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالُوا: أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَحَلَلْتُ"، وَأَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا طَهُرَتْ وَأَفَاضَتْ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَقَالَ: لَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً؟ قَالَ:" لا بَلْ لِلأَبَدِ".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حج کا احرام باندھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے نیت یہ کی تھی کہ میرا احرام بھی وہی ہے جس نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ بنا لیں کعبہ کا طواف کریں پھر بال تراشیں اور احرام کھول دیں ماسوائے ان لوگوں کے جو جانور ساتھ لائے ہیں (کیونکہ ان کا حج قرآن تھا قرآن میں عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا جاتا اس احرام میں منی جانا ہوتا ہے) تو وہ کہنے لگے کیا ہم اس حال میں منی جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات اب ظاہر ہوئی ہے اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر ہدی ساتھ نہ ہوتی تو میں عمرہ کر کے احرام کھول دیتا“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں انہوں نے سارے مناسک ادا کیے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا وہ جب پاک ہوئیں تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں تنعیم لے جائیں (وہاں سے عمرہ کی نیت کر کے) عمرہ کریں تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا، سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ (عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا) صرف آپ لوگوں کے ساتھ خاص ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہمیشہ کے لیے یہی ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عمارة الأرضين/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب تقضى الحائض المناسك كلها الخ، رقم: 1651، صحیح مسلم، الحج، باب بيان وجوه الاحرام .... الخ، رقم: 1213»
Sunan Shafi Hadith 443 in Urdu