السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
318. (بَابُ اتِّبَاعِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِلسُّنَّةِ)
(سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا کی اتباعِ سنت)
حدیث نمبر: 476
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَا الْمُزَنِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" أَمَّا الأَرْكَانُ: فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا: وَأَمَّا الإِهْلالُ: فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَبْعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
عبید بن جریج رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا اے ابو عبدالرحمن! میں آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی نہیں کرتا، انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج رحمہ اللہ وہ کون سے ہیں؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا میں (دوران طواف) دیکھتا ہوں کہ آپ دو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی رکن کو نہیں چھوتے، اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ سبتی جوتے پہنتے ہیں، اور آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ جب مکہ میں تھے لوگوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارا اور آپ نے آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھا یا تلبیہ بلند نہیں کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا جو مسئلہ ارکان سے متعلق ہے تو میں نے صرف دو یمنی ارکان کو ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے، اور جہاں تک جوتوں کا تعلق تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنتے دیکھا ہے جس پر بال نہیں تھے ان ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء فرما لیتے تھے تو مجھے بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند ہیں، جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی رنگ سے (بال یا کپڑا بطور خوشبو) رنگنا پسند کرتا ہوں، رہا مسئلہ احرام باندھنے کا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ (منی کی جانب) چل پڑتی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوضوء، باب غسل الرجلین فی النعلین ولا یمسح الخ، رقم: 166، صحیح مسلم، الحج، باب الاہلال من حیث تنبعث بہ راحلتہ، رقم: 1187.»
Sunan Shafi Hadith 476 in Urdu