السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
333. (بَابُ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ)
(بچہ صاحبِ بستر کا ہونے کا حکم)
حدیث نمبر: 491
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ أَبَا الرَّدَّادِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ السَّلامِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ هِشَامٍ النَّحْوِيَّ يَقُولُ: هُوَ زَمْعَةُ يَعْنِي بِالْفَتْحِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبد بن زمعہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا کیس زمعہ کی لونڈی کے بچہ کا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) دائر کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میرے بھائی نے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کا بچہ لے لوں وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، جو میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو سعد رضی اللہ عنہ کے بھائی عتبہ سے واضح طور پر ہم شکل پایا لیکن فرمایا: ”یہ بچہ عبد بن زمعہ کو ملے گا کیونکہ (اسلامی لاء یہ ہے کہ) بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے“ اور ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردے کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الخصومات، باب دعوى الوصی للمیت، رقم: 2421، صحیح مسلم، الرضاع، باب الولد للفراش... الخ، رقم: 1457.»
Sunan Shafi Hadith 491 in Urdu