السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. (باب ذم التطفيف فى الكيل والميزان)
(ناپ تول میں کمی کی مذمت)
حدیث نمبر: 83
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غَفَّارٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِسُورَةِ مَرْيَمَ، وَفِي الثَّانِيَةِ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ". وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ يَأْخُذُ بِأَحَدِهِمَا وَيُعْطِي بِالآخَرِ، فَقُلْتُ: وَيْلٌ لِفُلانٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے گئے ہوئے تھے، بنی غفار کا ایک آدمی لوگوں کو امامت کرا رہا تھا، میں نے نماز فجر میں اسے پہلی رکعت میں سورۃ مریم اور دوسری میں سورة المطففين پڑھتے ہوئے سنا (چونکہ اس سورۃ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے) تو ہمارے علاقے کا ایک آدمی تھا جس نے دو ترازو رکھے ہوئے تھے، اگر سامان خریدنا ہو تو ایک ترازو سے وزن کرتا اور اگر سامان بیچنا ہوتا تو دوسرے ترازو سے وزن کرتا، تو میں نے کہا: ہلاکت ہو فلاں کے لیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في الصلاة على الراحلة/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 226/14، رقم: 8552 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط الشيخين، السنن الكبرى للبيهقي: 390/2.»
Sunan Shafi Hadith 83 in Urdu