سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : التطبيق
باب: تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1032
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ" أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھلائی۔“ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا۔ جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا مگر ہم یہ کام پہلے کیا کرتے تھے، پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 118 (747)، (تحفة الأشراف: 9469)، مسند احمد 1/418 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1032 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1032
1032۔ اردو حاشیہ: اس طریقے کو تطبیق کہتے ہیں جو کہ منسوخ ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پتہ نہ چلا، اس لیے وہ یہ کرتے تھے مگر فقہائے امت میں سے کسی نے ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی حتیٰ کہ احناف نے بھی جو کہ عموماً ان کی بات رد نہیں کرتے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1032]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1032 in Urdu
عبد الله بن مسعود ← سعد بن أبي وقاص الزهري