سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : بسط اليسرى على الركبة
باب: بائیں (ہاتھ) کو گھٹنے پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1271
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا" , قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , وَزَادَ عَمْرٌو , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ , وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے (اس میں) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے (تشہد پڑھتے) تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اسی طرح دعا کرتے تھے اور آپ اپنا بایاں ہاتھ (کھول کر) اپنی بائیں ٹانگ پر رکھتے تھے اور اس پر بوجھ ڈالتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 186 (989، 990)، مسند احمد 4/3، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1377)، (تحفة الأشراف: 5264) (شاذ) صرف ’’ولا یحرکھا‘‘ کا جملہ شاذ ہے۔»
وضاحت: ۱؎: حدیث کے اس ٹکڑے ”اور اس کو ہلاتے نہیں تھے“ کو بعض علماء نے ”شاذ“ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ”کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے“ یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل رضی اللہ عنہ نے ”ہلاتے رہتے تھے“ سے تعبیر کر دیا ہے، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے اصل حقیقت بیان کر دی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں: تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلاتعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کر دیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل رضی اللہ عنہ نے ”ہلاتے تھے“ سے تعبیر کر دیا، اصل کام اشارہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة ولا يحركها
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (989) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1271
| يشير بأصبعه إذا دعا ولا يحركها |
سنن أبي داود |
989
| يشير بأصبعه إذا دعا ولا يحركها |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1271 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1271
1271۔ اردو حاشیہ: «وَلَا يُحَرِّكُهَا» ”اور اسے حرکت نہ دیتے تھے“ کے اضافے کے ساتھ یہ روایت شاذ ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند حسن ہے لیکن «وَلَا يُحَرِّكُهَا» کا اضافہ شاذ ہے۔ اسے ابن عجلان سے بیان کرنے میں زیاد بن سعد متفرد ہے۔ اور ثقات کی ایک جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے، وہ اس طرح کہ جب انہوں نے ابن عجلان سے یہ حدیث بیان کی ہے تو اس اضافے کے بغیر نقل کی ہے اور ابن عجلان کی دو ثقات نے متابعت کی ہے۔ انہوں نے بھی عامر بن عبداللہ سے اس زیادتی کے بغیر یہ روایت بیان کی ہے، اس لیے ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی صحت محل نظر ہے۔“ مزید برآں یہ کہ اس اضافے کی مخالفت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس میں ہے کہ پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی انگلی اٹھائی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ضعیف سنن أبي داود (مفصل) للألباني، حدیث: 175] الغرض مذکورہ زیادتی ضعیف اور شاذ ہے جبکہ باقی حدیث درجۂ قبول کو پہنچتی ہے۔ اگرچہ محقق کتاب نے پوری روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1271]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ مبشر احمد رباني حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 989
تشہد میں انگشت شہادت کو حرکت دینا
«. . . كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ . . .“ [سنن ابي داود: 989]
«. . . كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ . . .“ [سنن ابي داود: 989]
فوائد و مسائل
یہ حدیث ضعیف ہے:
کیونکہ اس میں محمد بن عجلان عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بیان کرتا ہے اور محمد بن عجلان متکلم فیہ راوی ہے، اس کے علاوہ چار ثقہ راویوں نے عامر بن عبداللہ سے اسی روایت کو بیان کیا ہے لیکن اس میں «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
معلوم ہوا یہ الفاظ شاذ ہیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی محمد بن عجلان کے طریق سے یہی روایت ذکر کی ہے، اس میں بھی «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
یہ حدیث ضعیف ہے:
کیونکہ اس میں محمد بن عجلان عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بیان کرتا ہے اور محمد بن عجلان متکلم فیہ راوی ہے، اس کے علاوہ چار ثقہ راویوں نے عامر بن عبداللہ سے اسی روایت کو بیان کیا ہے لیکن اس میں «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
معلوم ہوا یہ الفاظ شاذ ہیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی محمد بن عجلان کے طریق سے یہی روایت ذکر کی ہے، اس میں بھی «لَا يُحَرِّكُهَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔
[احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 0]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 989
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
989۔ اردو حاشیہ:
حرکت نہ دینے والی روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے اشارہ کرنے اور حرکت نہ دینے کے درمیان یہ تطبیق دی ہے، جیسے کہ شوکانی نے امام بہیقی سے نقل کیا ہے کہ آپ اشارہ کرتے مگر حرکت میں تکرار نہ ہوتا تھا۔ دیکھئے: [نيل اوطار باب الاشاره بالسبابة]
اس لئے حرکت اور اشارہ دونوں پر اگر اس طرح عمل کیا جائے کہ تشہد میں بیٹھتے ہی 53 کی گنتی کی گرہ بناتے ہوئے انگلی اٹھا لی جائے اور اسے سلام پھیرنے تک اشارے کی حالت میں کھڑا رکھا جائے۔ جیسا کہ احادیث سے تشہد میں انگلی کی یہی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور چند بار درمیان میں حرکت بھی دے لی جائے، تاکہ حرکت والی حدیث پر بھی عمل ہو جائے، تاہم حرکت کی تکرار اور کثرت جیسا کہ روا ج ہوتا جا رہا ہے، اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ «والله اعلم»
حرکت نہ دینے والی روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے اشارہ کرنے اور حرکت نہ دینے کے درمیان یہ تطبیق دی ہے، جیسے کہ شوکانی نے امام بہیقی سے نقل کیا ہے کہ آپ اشارہ کرتے مگر حرکت میں تکرار نہ ہوتا تھا۔ دیکھئے: [نيل اوطار باب الاشاره بالسبابة]
اس لئے حرکت اور اشارہ دونوں پر اگر اس طرح عمل کیا جائے کہ تشہد میں بیٹھتے ہی 53 کی گنتی کی گرہ بناتے ہوئے انگلی اٹھا لی جائے اور اسے سلام پھیرنے تک اشارے کی حالت میں کھڑا رکھا جائے۔ جیسا کہ احادیث سے تشہد میں انگلی کی یہی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور چند بار درمیان میں حرکت بھی دے لی جائے، تاکہ حرکت والی حدیث پر بھی عمل ہو جائے، تاہم حرکت کی تکرار اور کثرت جیسا کہ روا ج ہوتا جا رہا ہے، اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ «والله اعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 989]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، سنن ابوداود 989
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا (ہلاتے رہنا) صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [سنن النسائي 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857]
جس روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 989 اور السنن الكبريٰ للبيهقي 132/2]
اس کی سند محمد بن عجلان (مدلس راوی) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابن عجلان کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلسین کے طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [الفتح المبين ص60]
محمد بن عجلان کو طحاوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔
دیکھئے: [مشكل الآثار طبع قديم ج1 ص100، 101]
اس ضعیف روایت کو صحیح سند کہنا غلط ہے۔
یاد رہے کہ ضعیف روایت مردود ہوتی ہے اور تطبیق وہاں ہوتی ہے جہاں دونوں حدیثیں صحیح ہوں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
تشہد میں دعا کرتے وقت شہادت کی انگلی کو حرکت دینا (ہلاتے رہنا) صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ دیکھئے: [سنن النسائي 1269، و سنده صحيح صحيح ابن خزيمه 714 منتقي ابن الجارود 208 اور صحيح ابن حبان الاحسان: 1857]
جس روایت میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 989 اور السنن الكبريٰ للبيهقي 132/2]
اس کی سند محمد بن عجلان (مدلس راوی) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ابن عجلان کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلسین کے طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [الفتح المبين ص60]
محمد بن عجلان کو طحاوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔
دیکھئے: [مشكل الآثار طبع قديم ج1 ص100، 101]
اس ضعیف روایت کو صحیح سند کہنا غلط ہے۔
یاد رہے کہ ضعیف روایت مردود ہوتی ہے اور تطبیق وہاں ہوتی ہے جہاں دونوں حدیثیں صحیح ہوں۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 989
دوران تشہد انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے، شاذ ہے
جس روایت میں ہے کہ «ولا يحركها» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تشہد انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔“ وہ شاذ ہے جیسا کہ
شیخ البانیؒ نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
[ضعيف أبو داود: 208، تمام المنة: ص/ 217، المشكاة: 912، ضعيف نسائي: 67]
علاوہ ازیں اگر یہ روایت صحیح ثابت ہو بھی جائے تب بھی اس سے مذکورہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ حدیث نافی ہے اور حدیث وائل مثبت اور علماء کے نزدیک یہ بات معروف ہے کہ مثبت کو نافی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
[صفة الصلاة للألباني: ص/ 139، تمام المنة: ص/ 217]
اس توضیح کے باوجود امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہی ہے کہ دوران تشہیر مستقل انگلی کو حرکت نہیں دینی چاہیے۔
[تحفة الأحوذى: 196/2]
➊ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے:
«وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى واليمنى على اليمني وعقد ثلاثا و خمسين»
”تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ لگاتے۔“
«و أشار بإصبعه السبابة»
”اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔“
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ
«وقبض أصابعه كلها وأشار بالتي تلي الإبهام»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے (یعنی شہادت والی انگلی سے) اشارہ کرتے۔“
[أحمد: 65/2، مسلم: 913، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب صفة الجلوس فى الصلاة، موطا: 88/1، عبد الرزاق: 3046، نسائي: 36/3، بيهقي: 130/2]
➋ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ
«وقبض ثنتين وحلق حلقة وأشار بالسبابة»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیاں بند کیں اور ایک حلقہ بنا لیا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 666، كتاب الصلاة: باب الإشارة فى التشهد، أبو داود: 726، عبدالرزاق: 3080، بيهقي: 139/2]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تشہد اپنی انگشت شہادت کو حرکت دیتے اور فرماتے:
«لهى أشد على الشيطان من الحديد»
”یہ انگلی شیطان کو لوہے سے زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے۔“
[صفة الصلاة للألباني: ص/ 159]
جس روایت میں ہے کہ «ولا يحركها» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تشہد انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔“ وہ شاذ ہے جیسا کہ
شیخ البانیؒ نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔
[ضعيف أبو داود: 208، تمام المنة: ص/ 217، المشكاة: 912، ضعيف نسائي: 67]
علاوہ ازیں اگر یہ روایت صحیح ثابت ہو بھی جائے تب بھی اس سے مذکورہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ حدیث نافی ہے اور حدیث وائل مثبت اور علماء کے نزدیک یہ بات معروف ہے کہ مثبت کو نافی پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
[صفة الصلاة للألباني: ص/ 139، تمام المنة: ص/ 217]
اس توضیح کے باوجود امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہی ہے کہ دوران تشہیر مستقل انگلی کو حرکت نہیں دینی چاہیے۔
[تحفة الأحوذى: 196/2]
➊ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے:
«وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى واليمنى على اليمني وعقد ثلاثا و خمسين»
”تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کی گرہ لگاتے۔“
«و أشار بإصبعه السبابة»
”اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرتے۔“
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ
«وقبض أصابعه كلها وأشار بالتي تلي الإبهام»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی انگلی سے (یعنی شہادت والی انگلی سے) اشارہ کرتے۔“
[أحمد: 65/2، مسلم: 913، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب صفة الجلوس فى الصلاة، موطا: 88/1، عبد الرزاق: 3046، نسائي: 36/3، بيهقي: 130/2]
➋ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ
«وقبض ثنتين وحلق حلقة وأشار بالسبابة»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیاں بند کیں اور ایک حلقہ بنا لیا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 666، كتاب الصلاة: باب الإشارة فى التشهد، أبو داود: 726، عبدالرزاق: 3080، بيهقي: 139/2]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران تشہد اپنی انگشت شہادت کو حرکت دیتے اور فرماتے:
«لهى أشد على الشيطان من الحديد»
”یہ انگلی شیطان کو لوہے سے زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے۔“
[صفة الصلاة للألباني: ص/ 159]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 392]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1271 in Urdu
عامر بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي