🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب :
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1435
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:" يَا ابْنَ أَخِي , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: بھتیجے! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1435]
حضرت امیہ بن عبداللہ بن خالد رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم قرآن مجید میں گھر کی نماز اور خوف کی نماز پاتے ہیں لیکن سفر کی نماز قرآن مجید میں نہیں پاتے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے میرے بھتیجے! تحقیق اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف (نبی بنا کر) بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو صرف اسی طرح کریں گے جس طرح ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 458 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قرآن کے سلسلہ میں جو مطلق اوامر وارد ہیں ان کا محمل یہی حضر کی صلاۃ ہے۔ ۲؎: خوف کی صلاۃ کا ذکر آیت کریمہ: «وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا» (النساء: 101) میں ہے۔ ۳؎: اور آپ نے بغیر خوف کے بھی قصر کیا ہے، لہٰذا یہ ایسی دلیل ہے جس سے اسی طرح حکم ثابت ہوتا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أمية بن عبد الله القرشي
Newأمية بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر المخزومي
Newعبد الله بن أبي بكر المخزومي ← أمية بن عبد الله القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن أبي بكر المخزومي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1435 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1435
1435۔ اردو حاشیہ: قرآن مجید کو بھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تصدیق سے مانتے ہیں، لہٰذا اصل حیثیت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ آپ جو فرمائیں گے، وہ ہمارے لیے حجت ہے، قرآن مجید میں ہو یا نہ ہو۔ قرآن مجید میں تو نماز کا طریقہ بھی ذکر نہیں اور نہ ان کی تعداد وغیرہ ہی کا ذکر ہے۔ جب ان باتوں کو ہم قرآن مجید میں نہ ہونے کے باوجود مانتے ہیں تو قصر سفر کو بھی ماننا چاہیے کیونکہ یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً ثابت ہے۔ قولاً بھی فعلاً بھی۔ مزید تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1435]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1435 in Urdu