سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : المقام الذي يقصر بمثله الصلاة
باب: کتنے دن کی اقامت تک نماز قصر کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ الْأَزْدِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا قَدِمَتْ مَكَّةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ , قَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ وَمَا عَابَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ سے مکہ کے لیے نکلیں یہاں تک کہ جب وہ مکہ آ گئیں، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے نماز قصر پڑھی ہے، اور میں نے پوری پڑھی ہے، اور آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے اور میں نے رکھا ہے تو آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم نے اچھا کیا“، اور آپ نے مجھ پر کوئی نکیر نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1457]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کرنے گئی حتیٰ کہ جب میں مکہ آئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ نماز قصر کرتے رہے، میں پوری پڑھتی رہی۔ آپ روزہ چھوڑتے رہے، میں رکھتی رہی۔ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تو نے ٹھیک کیا۔“ آپ نے مجھ پر اس بات کا عیب نہیں لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16298) (منکر) (سند میں ’’عبدالرحمن‘‘ اور ”عائشہ رضی اللہ عنہا“ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان میں کوئی عمرہ نہیں کیا ہے، جبکہ اس روایت کے بعض طرق میں ’’رمضان میں‘‘ کا تذکرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1457 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1457
1457۔ اردو حاشیہ: اس حدیث کا باب سے تعلق یہ ہے کہ سفر کتنا بھی لمبا ہو اور اس میں کتنا عرصہ بھی لگے، نماز قصر کی جا سکتی ہے۔ سفر کے دوران میں کوئی حد نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1457]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1457 in Urdu
عبد الرحمن بن الأسود النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق