🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِسْتِمْطَارِ بِالْكَوْكَبِ
باب: ستاروں کی گردش پر پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1525
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب بھی میں نے اپنے بندوں کو بارش کی نعمت سے نوازا تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کافر رہا، وہ لوگ کہتے رہے: فلاں ستارے نے ایسا کیا ہے، اور فلاں ستارے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1525]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت (مثلاً: بارش) نازل فرماتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ اس کی وجہ سے کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ کہتا ہے: ہم پر فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے یا ہم فلاں ستارے سے سیراب ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 32 (72)، (تحفة الأشراف: 14113)، مسند احمد 2/362، 368، 421 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حالانکہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں، وہ تو جماد ہیں، یہ نعمت تو اس ذات باری تعالیٰ نے دی ہے جس نے ستاروں، ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥عمرو بن سواد القرشي، أبو محمد
Newعمرو بن سواد القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1525 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1525
1525۔ اردو حاشیہ: مذکورہ طریقے پر بارش کی نسبت ستارے کی طرف کرنا (یعنی اس نے برسائی) کفریہ الفاظ ہیں۔ ایک موحد اس قسم کے الفاظ کہنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس کا عقیدہ یہ نہیں ہوتا، مگر کافر تو اس عقیدے کے بھی قائل تھے۔ بہرصورت یہ الفاظ کفریہ ہیں، البتہ اگر ستارے کے طلوع وغیرہ کو بارش برسنے کی علامت یا وقت کہا جائے تو پھر یہ کفریہ الفاظ نہیں مگر ایک بے تحقیق اور غلط بات ضرور ہے، ہاں اگر بادلوں اور ہواؤں کی طرف بارش کی نسبت بطور علامت کرے تو کوئی حرج نہیں۔ احادیث اور کلام عرب اس پر دال ہیں، نیز یہ چیزیں بارش کا ظاہری سبب ہیں، بخلاف ستاروں کے کہ ان کا ظاہراً بارش سے کوئی تعلق نہیں، نیز اس میں ستارہ پرستوں سے مشابہت ہے، لہٰذا منع ہے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان م یں سے ایک گروہ اس کی ناشکری کرتا ہے یا اس کے نعمت الٰہیہ ہونے کا انکار کرتا ہے۔ یہاں سے ضمناً یہ معلوم ہوا کہ عقائد میں مجازات اور استعارات کا استعمال درست نہیں، خصوصاً توحید جیسے مسئلے میں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1525]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1525 in Urdu