سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : ذكر الاختلاف على الزهري في حديث أبي أيوب في الوتر
باب: وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1714
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قال:" مَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْمَأَ إِيمَاءً".
سفیان زھری سے روایت کرتے ہیں، اور زہری عطاء بن یزید سے، اور عطاء ابوایوب سے، ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو چاہے وتر سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے، اور جو اشارے سے پڑھنا چاہے اشارے سے پڑھے (یعنی بیمار آدمی)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1714]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص چاہے سات وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے پانچ وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے تین وتر پڑھ لے اور جو شخص چاہے ایک وتر پڑھ لے۔ اور جو شخص چاہے (یعنی مجبور ہو) وہ اشارے سے پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1711 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥الحارث بن مسكين الأموي، أبو عمرو الحارث بن مسكين الأموي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة مأمون |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1714 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1714
1714۔ اردو حاشیہ:
➊ اختلاف یہ ہے کہ پہلی دو روایات میں مذکورہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور آخری دو روایات میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کی طرف۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور پھر سائلین کو حدیث کے مطابق فتویٰ دیا، لہٰذا ان میں کوئی تعارض نہیں۔ اس طرح حدیث موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح صحیح ہے۔
➋ ”وتر حق ہے“ احناف اس لفظ سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں جبکہ حق کے معنی مؤکد بھی ہوتے ہیں اور یہاں یہی معنی مناسب ہیں تاک دوسری احادیث کے خلاف نہ پڑیں جو پیچھے گزر چکی ہیں، نیز لطیفہ یہ ہے کہ اسی روایت میں وتر کے ایک ہونے کا بھی صریح جواز ہے مگر احناف اس کے قائل نہیں۔ متحمل الفاظ سے استدلال اور صریح الفاظ سے اعراض حق پسندی نہیں۔
➌ ”اشارے سے پڑھ لے“ ایک نسخے میں «من شاء» کے بجائے «من غلب» کے لفظ ہیں، یعنی جو قیام و قعود سے مغلوب ہو، وہ اشارے سے پڑھ لے۔ جمہور علماء اسے مریض پر محمول کرتے ہیں کہ جو کھڑا ہونے اور بیٹھنے کی طاقت نہ رکھت ہو۔ واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 18؍86)
➊ اختلاف یہ ہے کہ پہلی دو روایات میں مذکورہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور آخری دو روایات میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کی طرف۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور پھر سائلین کو حدیث کے مطابق فتویٰ دیا، لہٰذا ان میں کوئی تعارض نہیں۔ اس طرح حدیث موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح صحیح ہے۔
➋ ”وتر حق ہے“ احناف اس لفظ سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں جبکہ حق کے معنی مؤکد بھی ہوتے ہیں اور یہاں یہی معنی مناسب ہیں تاک دوسری احادیث کے خلاف نہ پڑیں جو پیچھے گزر چکی ہیں، نیز لطیفہ یہ ہے کہ اسی روایت میں وتر کے ایک ہونے کا بھی صریح جواز ہے مگر احناف اس کے قائل نہیں۔ متحمل الفاظ سے استدلال اور صریح الفاظ سے اعراض حق پسندی نہیں۔
➌ ”اشارے سے پڑھ لے“ ایک نسخے میں «من شاء» کے بجائے «من غلب» کے لفظ ہیں، یعنی جو قیام و قعود سے مغلوب ہو، وہ اشارے سے پڑھ لے۔ جمہور علماء اسے مریض پر محمول کرتے ہیں کہ جو کھڑا ہونے اور بیٹھنے کی طاقت نہ رکھت ہو۔ واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی: 18؍86)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1714]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1714 in Urdu
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري