🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب : الأمر بالقيام للجنازة
باب: جنازہ کے لیے کھڑے ہونے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1921
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قال: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ" كَانُوا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَنْ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ".
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے (اتنے میں) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1921]
حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (ایک دفعہ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ آتا نظر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور جو لوگ آپ کے پاس تھے وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، پھر سب کھڑے رہے حتیٰ کہ جنازہ آگے گزر گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11826)، مسند احمد 4/388 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن ثابت الأنصاريصحابي
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد
Newخارجة بن زيد الأنصاري ← يزيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل
Newعثمان بن حكيم الأوسي ← خارجة بن زيد الأنصاري
ثقة
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله
Newمروان بن معاوية الفزاري ← عثمان بن حكيم الأوسي
ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ
👤←👥أيوب بن محمد الوزان، أبو محمد، أبو سليمان
Newأيوب بن محمد الوزان ← مروان بن معاوية الفزاري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1921 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1921
1921۔ اردو حاشیہ: مندرجہ بالا قولی اور فعلی، مرفوع اور موقوف روایات سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ جنازہ آتا دیکھ کر کھڑے ہو جانا چاہیے۔ فطرت اور عقل بھی اسی بات کا تقاضا کرتے ہیں اور یہی صحیح ہے۔ مگر حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنھم قیام کے قائل نہیں یا کہیے کہ اس ضروری نہیں مجھتے جیسا کہ آگے ایک باب میں احادیث آرہی ہیں، مگر وہ ان کا استنباط معلوم ہوتا ہے، اس لیے وہ قیام کی روایات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ان روایات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھنا ثابت ہوتا ہے، نیز تطبیق بھی ممکن ہے کہ کھڑے ہونے کا حکم استحباب پر دلالت کرتا ہے مگر بیٹھنا بھی جائز ہے اور یہ اچھی تطبیق ہے۔ (مزید بحث کے لیے دیکھیے، حدیث: 1915)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1921]

Sunan an-Nasa'i Hadith 1921 in Urdu