سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب : ثواب من قام رمضان وصامه إيمانا واحتسابا والاختلاف على الزهري في الخبر في ذلك
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2195
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ , قَالَتْ: فَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، وَيَقُولُ:" مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" , قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے، اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھائی۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا: ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بغیر کوئی تاکیدی حکم دیئے رمضان (کی راتوں میں) قیام یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے کی ترغیب دیتے، اور فرماتے: ”جس نے شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب چاہنے کے لیے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور معاملہ اسی پر قائم رہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2195]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو گھر سے نکل کر مسجد میں نماز پڑھنے لگے اور لوگوں کو (نفل) نماز پڑھائی، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو قیام رمضان کی ترغیب دلایا کرتے تھے، بغیر اس کے کہ ان کو اس کا قطعی حکم دیں، اور فرماتے تھے: ”جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کی بنیاد پر اور ثواب کی نیت سے نفل عبادت کرے گا، اس کے سب پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو صورت حال یہی تھی (کہ لوگ عموماً نفل نماز اکیلے اکیلے پڑھتے تھے، کوئی امام مقرر نہ تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16713)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 29 (924)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761)، مسند احمد 6/232 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تراویح واجب اور ضروری نہیں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد لكن قوله متوفى الخ مدرج إنما هو من قول الزهري
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2195 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق