سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلاَّمٍ وَعَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2281
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ:" هَلُمَّ" , قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ" , قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ:" الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ".
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ“ (کھانے میں شریک ہو جاؤ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے“۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2281]
بلحریش (بنو الحریش) قبیلے کے ایک شخص نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میں مسافر تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں اس وقت روزے سے تھا اور آپ کھانا کھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تم بھی آؤ۔“ میں نے عرض کیا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو معافی دی ہے؟“ میں نے کہا: کس چیز کی؟ فرمایا: ”روزے اور نصف نماز کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 5353 (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ھانی بن الشخیر‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 2281 in Urdu
اسم مبهم ← اسم مبهم