سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْخَبَرِ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2430
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بھنا ہوا) خرگوش لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ لانے والے شخص نے کہا کہ میں نے اس کے ساتھ خون دیکھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھانے کا حکم دیا، وہاں ایک شخص الگ بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں نہیں کھاتے؟“ اس نے کہا: میرا روزہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاندنی راتوں: تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ) کے روزے کیوں نہیں رکھتے؟“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2430 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2430
اردو حاشہ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ روک لینا حرمت کی بنا پر نہیں تھا، ورنہ آپ صحابہ کو کھانے کا حکم نہ دیتے۔ طبعاً آپ نے پسند نہ کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچا لہسن وغیرہ بھی نہیں کھاتے تھے، حالانکہ وہ سب کے نزدیک حلال ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ روک لینا حرمت کی بنا پر نہیں تھا، ورنہ آپ صحابہ کو کھانے کا حکم نہ دیتے۔ طبعاً آپ نے پسند نہ کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچا لہسن وغیرہ بھی نہیں کھاتے تھے، حالانکہ وہ سب کے نزدیک حلال ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2430]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2430 in Urdu
طلحة بن يحيى القرشي ← موسى بن طلحة القرشي