🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : تزوج المرأة مثلها في السن
باب: عورت کا ہم عمر مرد سے شادی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3223
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا صَغِيرَةٌ، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ، فَزَوَّجَهَا مِنْهُ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے لیے پیغام دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ چھوٹی ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے ان کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3223]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (تمہارے مقابلے میں) چھوٹی ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1972) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب العمر تھے جب کہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کی عمر فاطمہ رضی الله عنہا کی بنسبت کہیں زیادہ تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← الحسين بن واقد المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3223 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3223
اردو حاشہ:
(1) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل کرنے کے لیے تھا۔
(2) چھوٹی ہے ویسے تو وہ بالغ تھیں، چھوٹی نہیں تھیں مگر حضرت ابوبکر او ر عمر رضی اللہ عنہ کی عمر کے مقابلے میں بہت چھوٹی تھیں۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کی عمر بیس اکیس سال تھی۔ جبکہ ابوبکر پچاس سال سے اوپر ہوچکے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ چالیس سال سے تجاوز فرما چکے تھے۔ البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً پچیس سال تھی۔ اور یہ عمر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے تقریباً برابر ہی تھی۔ نکاح میں مرد اور عورت کی عمر میں اتنا فرق کوئی زیادہ نہیں ہے۔
(3) سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پچاس سال کی عمر میں حضرت عائشہؓ سے نکاح کرنا کیسے مناسب تھا جبکہ وہ بہت چھوٹی تھیں بلکہ نابالغ تھیں۔ تین سال بعد رخصتی کے وقت بالغ ہوئیں؟ جواب یہ ہے کہ کسی عظیم مقصد کی خاطر عمر کا یہ تفاوت قابل برداشت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دراصل خانوادۂ صدیق رضی اللہ عنہ سے خصوصی تعلق جوڑنا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے آپ کی وفات کے بعد خلیفہ منتخب ہونا تھا۔ اس تعلق کی بنا پر انہیں خصوصی تقدس حاصل ہوگیا۔ یہ صرف اتفاق نہیں کہ پہلے دو خلیفے آپ کے سسر اور بعد والے دو خلیفے آپ کے داماد تھے۔ اور بنو امیہ جنہوں نے تقریباً سو سال تک حکومت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال تھے۔ اور بنوعباس تو خیر آپ کے نسبی رشتے دار تھے۔ مذکورہ خلفاء کی آپ سے مذکورہ نسبتوں نے ان کی حکومت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3223]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3223 in Urdu