سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : إذا استشار رجل رجلا في المرأة هل يخبره بما يعلم
باب: شادی کی غرض سے مشورہ طلب کرنے والے کو عورت کے متعلق بتا دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَ، وَالصَّوَابُ أَبُو هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ (دیکھ لیے ہوتے تو اچھا ہوتا) کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے (بعد میں اس کی وجہ سے کوئی بدمزگی نہ پیدا ہو) ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی حدیث مجھے ایک دوسری جگہ «عن یزید بن کیسان عن ابی حازم عن ابی ہریرہ» کے بجائے «عن یزید بن کیسان أن جابر بن عبداللہ حدث» کے ساتھ ملی۔ لیکن صحیح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں نے انصار کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے دیکھا نہیں؟ انصار کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک اور جگہ یہ حدیث اس طرح پائی ہے کہ یزید بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، جبکہ صحیح یہ ہے کہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3236 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں انہوں نے اپنی شادی کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ لیکن آپ نے اس عورت کے تعلق سے ایک بات انہیں بے پوچھے بتائی تو جب کسی عورت کے متعلق نکاح کی غرض سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو اس شخص کو اس عورت کے متعلق جو کچھ جانے بدرجہ اولیٰ بتا دینا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3248 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3248
اردو حاشہ:
خرابی سے مراد یا تو بھینگا ہونا ہے یا چھوٹا ہونا یا پھر نیلگوں ہونا۔ واللہ أعلم۔
خرابی سے مراد یا تو بھینگا ہونا ہے یا چھوٹا ہونا یا پھر نیلگوں ہونا۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3248]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3248 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي