🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ : الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3415
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَبَسَطَ إِزَارَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ رُوَيْدًا وَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، وَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي , فَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي , وَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ انْحَرَفَ وَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، وَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ وَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا عَائِشُ رَابِيَةً؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: حَشْيَا، قَالَ:" لَتُخْبِرِنِّي , أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ. قَالَ:" أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَلَهَدَنِي لَهْدَةً فِي صَدْرِي أَوْجَعَتْنِي، قَالَ:" أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ". قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمُ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ , وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ , فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ وَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ , فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ". خَالَفَهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ.
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ وہ بولیں: جس رات میری باری تھی، آپ عشاء سے لوٹے اور جوتے اپنے پیروں کے پاس رکھ لیے، اپنی چادر رکھی اور بستر پر اپنا تہبند بچھایا، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی، جب آپ کو اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ نے آہستہ سے جوتے پہنے اور آہستہ سے چادر لی پھر دھیرے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر دھیرے سے بند کر دیا۔ میں نے بھی اوڑھنی اپنے سر پر ڈالی، چادر اوڑھی اور پھر تہبند پہن کر آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، تو آپ نے اپنے ہاتھ تین بار اٹھائے، قیام کو طویل کیا پھر پلٹے تو میں بھی پلٹی، اور تیزی سے چلے، میں بھی تیزی سے چلی، پھر آپ نے رفتار کچھ اور تیز کر دی تو میں نے بھی تیز کر دی پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، میں آپ سے آگے نکل گئی اور اندر داخل ہو گئی اور اب میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آ گئے اور فرمایا: کیا بات ہے عائشہ! سانس کیوں پھولی ہے؟ (سلیمان بن داود نے کہا: میرا خیال ہے کہ میرے شیخ نے یوں فرمایا: «حشیا»، یعنی) تمہاری سانسیں کیوں پھول رہی ہیں؟ آپ نے فرمایا: بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر یعنی اللہ بتا دے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر انہوں نے آپ کو پورا واقعہ بتایا، آپ نے فرمایا: تو تمہارا ہی سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں، پھر آپ نے میرے سینے پر ایک ایسی تھپکی ماری کہ مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: کیا تم سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے گا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بات چاہے لوگوں سے کتنی ہی مخفی رہے، لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے بخوبی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، پھر فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے جب تم نے مجھے دیکھا، لیکن وہ اندر تمہارے سامنے نہیں آ سکتے تھے کہ تم اپنے کپڑے اتار چکی تھیں، انہوں نے مجھے پکارا اور تم سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا اور میں نے اسے تم سے چھپایا (یعنی دھیرے سے کہا) اور میں سمجھا کہ تم سو چکی ہو، تو میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہیں جگاؤں۔ اور مجھے ڈر تھا کہ تم تنہائی میں وحشت نہ کھاؤ، تو انہوں (جبرائیل) نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔ حجاج بن محمد نے سند اس کے برعکس یوں بیان کی «عن ابن جریج، عن ابن ابی ملیکۃ، عن محمد بن قیس» ۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3415]
محمد بن قیس سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنا ایک واقعہ نہ بیان کروں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں؟ (ضرور بیان کریں۔) وہ فرمانے لگیں: ایک رات جب میری باری تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عشاء کی نماز سے) واپس تشریف لائے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پاؤں کے قریب رکھ لیے، اپنی چادر اتاری اور اپنا تہ بند بستر پر بچھا لیا اور اتنی دیر لیٹے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا میں سو گئی ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے جوتے پہنے اور ہولے سے اپنی چادر اٹھائی اور ہلکے سے دروازہ کھول کر نکل گئے اور بغیر آہٹ کیے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے فوراً قمیص پہنی، اوڑھنی لی، تہ بند کسا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد میں پہنچ گئے اور تین دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر کھڑے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو میں بھی مڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تیز ہوئے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھاگنے لگے تو میں بھی بھاگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ لگا دی تو میں نے بھی دوڑ لگا دی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہنچ گئی۔ میں حجرے میں داخل ہو کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے اور فرمایا: عائشہ! تجھے کیا ہوا ہے؟ پیٹ پھولا ہوا ہے اور سانس چڑھا ہوا ہے؟ مجھے بتا دے ورنہ باریک بین اور خبردار (اللہ) مجھے بتا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہی وہ سایہ تھا جو میں نے اپنے آگے آگے دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے میرے سینے میں ہاتھ مارا جس سے مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو سمجھتی تھی کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ جس قدر بھی بات چھپائیں اللہ تعالیٰ جان ہی لیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نے (مجھے اٹھتے) دیکھا تھا اس وقت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔ چونکہ تو کپڑے اتار چکی تھی، اس لیے وہ اندر نہیں آ سکے تھے۔ انہوں نے تجھ سے چھپا کر مجھے آواز دی، میں نے بھی تجھ سے چھپا کر انہیں جواب دیا۔ میں سمجھتا تھا کہ تو سو چکی ہے، لہٰذا میں نے تجھے جگانا مناسب نہ سمجھا کیونکہ مجھے خطرہ تھا کہ تو اکیلی ڈرے گی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بقیع والوں کے پاس جاؤں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کروں۔ حجاج بن محمد نے (اس حدیث کے راوی) ابن وہب کی مخالفت کی ہے، اس نے سند یوں بیان کی ہے: «عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ» ابن جریج سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے اور وہ محمد بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔ (جب کہ ابن وہب نے ابن جریج اور محمد بن قیس کے درمیان عبداللہ بن کثیر کا واسطہ بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2039 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥محمد بن قيس القرشي
Newمحمد بن قيس القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
له رؤية
👤←👥عبد الله بن كثير القرشي
Newعبد الله بن كثير القرشي ← محمد بن قيس القرشي
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد الله بن كثير القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع
Newسليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3415 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3415
اردو حاشہ:
یہ روایت پیچھے تفصیلاً گزرچکی ہے۔ حدیث نمبر: 2039 دیکھیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3415]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3415 in Urdu