سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : الوصية بالثلث
باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3659
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضَ سَعْدٌ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3659]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آل میں سے کسی نے بیان کیا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر (راوی نے سابقہ) حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3950)، (حم 1/72) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3659 in Urdu
سعد بن إبراهيم القرشي ← اسم مبهم