سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ
باب: اس حدیث میں ابوالزبیر (راوی) پر رواۃ اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3743
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا تَصْلُحُ الْعُمْرَى، وَلَا الرُّقْبَى فَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا أَوْ أَرْقَبَهُ فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ وَأُرْقِبَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ أَرْسَلَهُ حَنْظَلَةُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ کرنا جائز نہیں، لیکن جس کسی نے کسی کو کوئی چیز عمریٰ یا رقبیٰ میں دی تو جس کو دی ہے وہ چیز اسی کی ہو جائے گی، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی (یعنی مرنے کے بعد اس کے ورثہ کو ملے گی)۔ حنظلہ نے اس حدیث کو مرسلاً بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3743]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ” «الْعُمْرٰی» ”عمریٰ“ اور «الرُّقْبٰی» ”رقبیٰ“ درست نہیں۔ جس شخص کو عمریٰ دیا گیا ہو، رقبیٰ دیا گیا ہو، وہ اسی کے پاس رہے گا جسے عمریٰ یا رقبیٰ دیا گیا۔ اس کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔“ (یعنی اس کے ورثاء کو منتقل ہو جائے گا)۔ اس حدیث کو حنظلہ بن ابی سفیان جمحی نے مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الرقبى/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3739 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 3743 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي