سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
0. باب : 3 - باب ذكر اختلاف الألفاظ المأثورة في المزارعة
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3968
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِجَارَةِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خالی زمین کو سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ صاف زمین سونے چاندی (نقد رقم) کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر دے دی جائے۔ (مضاربت کی دستاویز) امام نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کچھ مال بطور مضاربت دے اور اس کی تحریر لکھنا چاہے تو اسے یوں لکھنا چاہیے (لکھنے والا وہ شخص ہو گا جسے مالِ مضاربت دیا جائے): ”یہ وہ تحریر ہے جو فلاں بن فلاں نے اپنی خوشی سے، صحت اور اختیار کی حالت میں، فلاں بن فلاں کے لیے لکھی ہے، کہ مجھے فلاں سال کے فلاں مہینے کے آغاز میں صحیح (کھڑے) اور عمدہ دس ہزار درہم (جو وزن کے لحاظ سے دس درہم سات مثقال کے برابر ہوتے ہیں) ملے۔ اس شرط پر کہ میں ظاہری اور پوشیدہ معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہوں گا اور بہرصورت امانت داری کروں گا، نیز میں ان کے ساتھ جو چیز خریدنا مناسب سمجھوں گا، خریدوں گا اور جس قسم کی تجارت میں بھی ان کو صرف کرنا بہتر سمجھوں گا، صرف کروں گا۔ اور میں جہاں کا سفر مناسب سمجھوں گا، کروں گا اور ان سے خریدی ہوئی اشیاء میں سے جو چیزیں بیچنا مناسب سمجھوں گا، انہیں نقد یا ادھار اور رقم کے عوض یا سامان کے عوض بیچوں گا۔ میں ان تمام معاملات میں اپنی رائے پر عمل کروں گا۔ اور اگر میں مناسب سمجھوں تو کسی بھی شخص کو وکیل بناؤں گا، اور اصل مال جو تو نے مجھے دیا ہے اور جس کی مقدار اس تحریر میں بیان کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ جو بھی اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ اور نفع عطا فرمائے گا، وہ میرے اور تیرے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ نصف تجھے ملے گا کیونکہ اصل مال تیرا ہے اور باقی نصف مجھے اپنی محنت اور کام کی وجہ سے ملے گا۔ اور اگر (اللہ نہ کرے) اس کاروبار میں نقصان ہوا تو وہ اصل مال سے شمار ہو گا۔ تو میں نے تجھ سے یہ دس ہزار صحیح (کھڑے) اور عمدہ درہم فلاں سال کے فلاں مہینے کے شروع میں وصول کر لیے ہیں اور یہ تیری رقم میرے پاس بطور مضاربت ہے، ان شرائط کے مطابق جو اس تحریر میں لکھ دی گئی ہیں۔“ فلاں (رقم لینے والا) اور فلاں (رقم دینے والا) اس تحریر کا اقرار کرتے ہیں۔ اور اگر مال کا مالک ادھار خرید و فروخت کی اجازت نہ دینا چاہتا ہو تو تحریر میں یوں لکھا جائے گا: ”اور تو نے مجھے ادھار خرید و فروخت سے روک دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 18707) (ضعیف) (اس کے راوی ’’شریک القاضی‘‘ ضعیف الحفظ ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥طارق بن عبد الرحمن البجلي طارق بن عبد الرحمن البجلي ← سعيد بن المسيب القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← طارق بن عبد الرحمن البجلي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3968 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3968
اردو حاشہ:
(1) مزارعت کے ساتھ چونکہ مضاربت کا گہرا تعلق ہے اور دونوں ایک سے ہیں‘ اس لیے مزارعت کے ساتھ مضاربت کا ذکر فرمایا۔
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے مضاربت کے لفظ ”قرض“ استعمال فرمایا ہے کیونکہ مضاربت میں قراض پایا جاتا ہے۔
(3) مضاربت پر دیا گیا مال مضارب (کاروبار کرنے والا) کے ہاتھ میں بطور امانت رہے گا۔ اگر وہ مال… اللہ نہ کرے… چوری ہوجائے یا ضائع ہوجائے‘ مثلاً: گم ہوگیا یا آگ لگ گئی وغیرہ تو مضارب ذمہ دار نہ ہوگا‘ البتہ اس سے ثبوت یا حلفیہ بیان (جو بھی مناسب ہو) لیا جائے گا۔
(4) اگر کاروبار میں خسارہ ہوجائے تو وہ اصل مال سے متصور ہوگا۔ مضارب کو حصہ نہ دینا پڑے گا۔ مالک کا مال گیا اور مضارب کی محنت گئی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
(1) مزارعت کے ساتھ چونکہ مضاربت کا گہرا تعلق ہے اور دونوں ایک سے ہیں‘ اس لیے مزارعت کے ساتھ مضاربت کا ذکر فرمایا۔
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے مضاربت کے لفظ ”قرض“ استعمال فرمایا ہے کیونکہ مضاربت میں قراض پایا جاتا ہے۔
(3) مضاربت پر دیا گیا مال مضارب (کاروبار کرنے والا) کے ہاتھ میں بطور امانت رہے گا۔ اگر وہ مال… اللہ نہ کرے… چوری ہوجائے یا ضائع ہوجائے‘ مثلاً: گم ہوگیا یا آگ لگ گئی وغیرہ تو مضارب ذمہ دار نہ ہوگا‘ البتہ اس سے ثبوت یا حلفیہ بیان (جو بھی مناسب ہو) لیا جائے گا۔
(4) اگر کاروبار میں خسارہ ہوجائے تو وہ اصل مال سے متصور ہوگا۔ مضارب کو حصہ نہ دینا پڑے گا۔ مالک کا مال گیا اور مضارب کی محنت گئی۔ اللہ اللہ خیر سلا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3968]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3968 in Urdu
طارق بن عبد الرحمن البجلي ← سعيد بن المسيب القرشي