سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ تُعُرِّضَ لِمَالِهِ
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
حدیث نمبر: 4088
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَانْشُدْ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ. قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی میرا مال چھینے تو آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہیں اللہ کی قسم دو“، اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ نے فرمایا: ”تو تم ان سے لڑو، اب اگر تم مارے گئے تو جنت میں ہو گے اور اگر تم نے مار دیا تو وہ جہنم میں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے اگر میرے مال پر حملہ کر دیا جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو اللہ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ (ڈاکو) نہ مانیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ عزوجل کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے۔“ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان سے لڑ، اگر تو قتل ہو گیا تو جنت میں جائے گا اور اگر تو نے ان کو مار دیا تو وہ جہنمی ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4088 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4088
اردو حاشہ:
”جہنمی ہوں گے“ ڈاکو، محاربین (اللہ اور اس کے رسول سے جنگ لڑنے والے) میں داخل ہیں۔ اس کی سزا قتل بھی ہو سکتی ہے۔ جب وہ لڑائی میں مارا گیا تو سزا پوری ہو گئی۔ آخرت میں بھی جہنمی ہو گا کیونکہ بغیر توبہ، علانیہ شریعت کی مخالفت کرتا ہوا، بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرتا ہوا مارا گیا، اس لیے بعض علماء اس کے جنازے کے بھی قائل نہیں کیونکہ اس کا جہنمی ہونا قطعی ہے۔ و اللہ أعلم۔
”جہنمی ہوں گے“ ڈاکو، محاربین (اللہ اور اس کے رسول سے جنگ لڑنے والے) میں داخل ہیں۔ اس کی سزا قتل بھی ہو سکتی ہے۔ جب وہ لڑائی میں مارا گیا تو سزا پوری ہو گئی۔ آخرت میں بھی جہنمی ہو گا کیونکہ بغیر توبہ، علانیہ شریعت کی مخالفت کرتا ہوا، بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرتا ہوا مارا گیا، اس لیے بعض علماء اس کے جنازے کے بھی قائل نہیں کیونکہ اس کا جہنمی ہونا قطعی ہے۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4088]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4088 in Urdu
قهيد بن مطرف الغفاري ← أبو هريرة الدوسي