🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ : الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ
باب: کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4281
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: لَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ. فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور مجسمہ (مورت) ہو“۔ اس دن جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ چھوٹے چھوٹے کتوں (پلوں) کو بھی مارنے کا حکم دے رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4281]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام نے بتایا: ”لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔“ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت کتے مارنے کا حکم دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے چھوٹے کتے مارنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18075) (صحیح) (یہ حدیث صحیح مسلم (2105)، سنن ابی داود (4157) میں بسند عبید بن السباق عن ابن عباس عن میمونہ آئی ہے۔»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں ”چھوٹے باغوں کے کتوں کو مارنے اور بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ دینے کا حکم دے رہے تھے، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، اور صرف کالے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ يقتل كلب الحائط الصغير ويترك كلب الحائط الكبير
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥عبيد بن السباق الثقفي، أبو سعيد
Newعبيد بن السباق الثقفي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد بن السباق الثقفي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل
Newمحمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن حرب الخولاني، أبو عبد الله
Newمحمد بن حرب الخولاني ← محمد بن الوليد الزبيدي
ثقة
👤←👥كثير بن عبيد المذحجي، أبو الحسن
Newكثير بن عبيد المذحجي ← محمد بن حرب الخولاني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4281 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4281
اردو حاشہ:
(1) ضرورت پڑنے پر کتوں کو قتل کرنا جائز ہے۔
(2) ”داخل نہیں ہوتے“ یعنی رحمت کے فرشتے ورنہ کاتب، محافظ اور موت کے فرشتے تو ہر گھر میں جاتے ہیں۔
(3) ”تصویر“ مراد ذی روح کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، مجسم ہو یا منقش و نگار کی صورت میں ہو یا کپڑے پر بنائی گئی ہو یا وہ شمسی تصویر ہو، یہ سب اقسام حرام ہیں۔ صحیح احادیث کی روشنی میں فرشتے ان گھروں میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں۔ ہاں! صرف ان تصویروں کی رخصت ہے جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور ان کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، جیسے پاسپورٹ، شناختی کارڈ یا لائسنس وغیرہ کے لیے انہیں بھی محفوظ یا بند مقام میں رکھا جائے، آویزاں نہ کیا جائے۔ اسی طرح کسی کپڑے پر بنی تصاویر کو پھاڑ کر بستر یا تکیے بنا لیے جائیں اور استعمال میں لایا جائے تو جائز ہے۔ بالفاظ دیگر اگر اس قسم کی صورت میں ان کی پامالی ہوتی ہے تو جائز ہیں۔
(4) ”کتے مارنے کا حکم“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے آغاز میں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم عام تھا جو ہر قسم کے کتے کے قتل کو شامل تھا، اس لیے کسی قسم کے کتے کو پالنا جائز نہ تھا، پھر آپ نے کالے کتے کے علاوہ باقی کتوں کے قتل سے منع فرما دیا اور شکاری، کھیتی باڑی اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتے پالنے کی اجازت دے دی۔ ان اقسام کے علاوہ تمام کتوں کو ضرورت کے تحت خصوصاً اس وقت قتل کرنا جائز ہے جب وہ ضرر رساں بھی ہوں۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4281]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4281 in Urdu