🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ : التِّجَارَةِ
باب: تجارت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ، وَيَكْثُرَ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ، وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ، وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ، فَيَقُولَ: لَا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلَانٍ، وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلَا يُوجَدُ".
عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال و دولت کا پھیلاؤ ہو جائے گا اور بہت زیادہ ہو جائے گا، تجارت کو ترقی ہو گی، علم اٹھ جائے گا ۱؎، ایک شخص مال بیچے گا، پھر کہے گا: نہیں، جب تک میں فلاں گھرانے کے سوداگر سے مشورہ نہ کر لوں، اور ایک بڑی آبادی میں کاتبوں کی تلاش ہو گی لیکن وہ نہیں ملیں گے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4461]
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ بھی قیامت کی نشانیاں ہیں کہ مال عام اور بہت زیادہ ہو جائے گا، تجارت پھیل جائے گی، علم (دیکھنے میں) عام ہو گا (مگر) آدمی کوئی سودا کرے گا تو کہے گا: میں سودا پکا نہیں کرتا حتیٰ کہ میں فلاں قبیلے کے تاجر سے مشورہ کر لوں، اور ایک بہت بڑے قبیلے میں کاتب تلاش کیا جائے گا تو نہیں ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10712) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اکثر نسخوں میں «يظهر العلم» ہے، اور بعض نسخوں میں «يظهر الجهل» ہے، یعنی لوگوں کے دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہونے کے سبب جہالت پھیل جائے گی، اور دوسری احادیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے «يظهر العلم» کا معنی یہاں ”علم کے اٹھ جانے یا ختم ہو جانے کے ہوں گے“، واللہ اعلم۔ ۲؎: یعنی ایسے کاتبوں کی تلاش جو عدل و انصاف سے کام لیں اور ناحق کسی کا مال لینے کی ان کے اندر حرص و لالچ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري و يونس بن عبيد عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن تغلب العبديصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمرو بن تغلب العبدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد
Newيونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري
ثقة ثبت فاضل ورع
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← يونس بن عبيد العبدي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4461 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4461
اردو حاشہ:
(1) ترجمۃ الباب کا مقصد تجارت اور سوداگری کی بابت فرامینِ رسول بیان کرنا ہے اور باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بنتی ہے کہ اس میں تجارت کے عام ہونے اور علاماتِ قیامت میں سے ہونے کا ذکر ہے۔
(2) کثرتِ مال قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ مال، انسان کے لیے خیر بھی ہو سکتا ہے اور شر بھی، تاہم دوسرا امکان بہت زیادہ ہے۔ اور یہ اس لیے کہ عام انسانوں کے انداز تجارت اور مال کمانے سے بخوبی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں صرف مال کمانے کی فکر ہے، اور وہ آخرت کی فکر سے بالکل عاری اور غافل ہو چکے ہیں۔ ہاں، البتہ جسے اللہ توفیق عطا فرمائے تو وہ اپنے مال کے ذریعے سے جنت ہی خریدتا ہے۔ اللهم اجعلنا منهم۔
(3) یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ دنیوی علم کا ظہور اور امت مسلمہ میں اس کا پھیلائو علاماتِ قیامت میں سے ہے۔ اور اس میں بھی امت کے لیے کوئی زیادہ خیر اور بھلائی نہیں الا یہ کہ افراد امت اس کے ساتھ ساتھ شرعی علم حاصل کریں اور وہ احکام شریعت سے، کما حقہٗ آگاہ ہوں، لیکن عام مشاہدہ اس کے برعکس ہی ہے، تاہم جو شخص علم دین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی، صحیح طور پر حاصل کرتا ہے تو یہ سونے پہ سہاگا ہے اور یہ بہت زیادہ خیر و بھلائی والا عمل ہے۔
(4) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا کھلم کھلا اور صریح معجزہ ہے کہ آپ نے بہت عرصہ پہلے جن امور کی خبر دی تھی، وہ من و عن اسی طرح وقوع پذیر ہوئے جس طرح آپ نے بیان فرمایا تھا۔
(5) ”علم ہو گا“ بعض نسخوں میں علم کی بجائے جہالت کا لفظ ہے اور وہ آئندہ کلام سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کہ اس قدر جہالت ہو گی کہ سوجھ بوجھ رکھنے والا اور دستاویز لکھنے والا خال خال ہی ملے گا۔ اگر یہاں لفظ علم ہی ہو تو پھر مناسبت یوں ہو گی کہ دیکھنے میں تو علم بہت ہو گا مگر لیاقت نہیں ہو گی حتیٰ کہ نہ تجارت کی سوجھ بوجھ ہو گی نہ دستاویز لکھنا آئے گی۔ آج کل بھی کچھ ایسی ہی صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ سکول عام ہیں، استاد بھی بہت ہیں مگر نہ اساتذہ خلوص سے پڑھاتے ہیں نہ طلبہ محنت سے پڑھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے جاہل بڑھ رہے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4461]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4461 in Urdu