🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : ذكر اختلاف الناقلين لخبر علقمة بن وائل فيه
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4731
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ , ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَتَلَ هَذَا أَخِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟"، قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: دُونَكَ صَاحِبَكَ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِ، فَقَالَ:" مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ , وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنْ ذَاكَ"، قَالَ: ذَلِكَ كَذَلِكَ.
وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟، اس نے (لانے والے نے) کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا: ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے تم نے کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو، اس نے کہا: میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا: میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا: تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا: تمہارا برا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا، یہ سن کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے؟، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: تو یہی ہو گا، اس نے کہا: تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو تندی (چمڑے کی رسی) کے ساتھ کھینچتا ہوا آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (دوسرے آدمی) سے پوچھا: کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟ پہلا آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ نہ مانے تو میں گواہ پیش کروں گا۔ دوسرے آدمی نے کہا: ہاں، میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن کے لیے لکڑیاں کاٹ رہے تھے۔ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلا دیا تو میں نے کلہاڑا اس کے سر کی چوٹی پر دے مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اتنا مال ہے جو تو اپنی جان بچانے کے لیے ادا کرے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس تو میرے کلہاڑے اور میری چادر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے تیری قوم تجھے خرید لے گی؟ (تیری دیت دے کر تجھے بچا لے گی؟) اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کم مرتبہ ہوں۔ آپ نے اس کی رسی پہلے آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا: لو اپنے قاتل کو سنبھالو۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔ لوگ جا کر اس آدمی کو ملے اور کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ اس جیسا ہی ہوگا۔ وہ آدمی واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: اگر اس (میں) نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔ حالانکہ میں نے تو اسے آپ کے فرمان سے پکڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تو نہیں چاہتا کہ یہ شخص تیرا اور تیرے مقتول کا گناہ سمیٹ لے۔ (تمہارے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے؟) اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر کہا: اگر یہ بات ہے تو میں معاف کر دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ اسی طرح ہے جس طرح میں نے کہا، یعنی وہ تیرے اور تیرے مقتول کے گناہ اٹھائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدةصحابي
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي
Newعلقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥حاتم بن أبي صغيرة القشيري، أبو يونس
Newحاتم بن أبي صغيرة القشيري ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← حاتم بن أبي صغيرة القشيري
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4731 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4731
اردو حاشہ:
حدیث 4730 میں ہے کہ وہ کنواں کھود رہے تھے جبکہ اس حدیث میں ہے کہ وہ لکڑیاں کاٹ رہے تھے جب اس نے قتل کیا۔ اس میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ ان کا اصل کام تو کنواں کھودنا ہو اور اس دوران میں انھیں لکڑیاں حاصل کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہو اور لکڑیاں اکٹھی کرتے ہوئے ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا ہو اور اس نے کنواں کھودنے والی کدال کے ساتھ اسے قتل کر دیا ہو۔ جب مقتول کے بھائی نے بتایا تو اس نے ان کے اصل کام کا حوالہ دیا اور جب قاتل نے خود بتایا تو جائے وقوعہ کی خبر دی۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4731]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4731 in Urdu