سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب : دية جنين المرأة
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4818
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً , فَأَسْقَطَتِ الْمَخْذُوفَةُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَجَعَلَ عَقْلَ وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةٍ مِنَ الْغُرِّ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا وَهْمٌ , وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَرَادَ مِائَةً مِنَ الْغُرِّ، وَقَدْ رُوِيَ النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گر گیا، چنانچہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ۱؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے: عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4818]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر دے مارا جس سے اس کا حمل ضائع ہو گیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، نیز اس دن آپ نے «الْخَذْفِ» ”کنکری پھینکنے“ سے روک دیا۔ امام ابوعبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ وہم ہے، ہو سکتا ہے کہ ان کا ارادہ ”ایک سو بکریاں“ کہنے کا ہو (لیکن غلطی سے پانچ سو بکریاں کہہ دیں)۔ اور «الْخَذْفِ» ”کنکری پھینکنے“ کی ممانعت تو عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کی حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (اور وہ اگلی حدیث: 4819 ہی میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ روایت سے یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: اگلی روایات (رقم ۴۸۲۰ و ۴۸۲۱) میں ”ایک غرہ“ یعنی ایک غلام یا باندی کا ذکر ہے، ہو سکتا ہے اس وقت ایک غلام یا باندی کی قیمت سو بکریوں کے مساوی ہوتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4818 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4818
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کی طرح یہی بات امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں مذکورہ (پانچ سو بکریوں والی روایت بیان کرنے کے بعد فرمائی ہے۔ دیکھیے: (سنن أبي داود، الدیات، باب دیة الجنین، حدیث: 4578) احادیث صحیحہ کے معارض ہونے کے علاوہ مذکورہ حدیث ہے بھی مرسل جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے، اس لیے یہ قابل حجت نہیں۔ اصل مسئلہ وہی ہے جس کی وضاحت حدیث: 4817 کے فوائد ومسائل کے تحت ہو چکی ہے۔ واللہ أعلم
امام نسائی رحمہ اللہ کی طرح یہی بات امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی اپنی سنن میں مذکورہ (پانچ سو بکریوں والی روایت بیان کرنے کے بعد فرمائی ہے۔ دیکھیے: (سنن أبي داود، الدیات، باب دیة الجنین، حدیث: 4578) احادیث صحیحہ کے معارض ہونے کے علاوہ مذکورہ حدیث ہے بھی مرسل جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے، اس لیے یہ قابل حجت نہیں۔ اصل مسئلہ وہی ہے جس کی وضاحت حدیث: 4817 کے فوائد ومسائل کے تحت ہو چکی ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4818]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4818 in Urdu
يوسف بن صهيب الكندي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي