سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : ذكر اختلاف أبي بكر بن محمد وعبد الله بن أبي بكر عن عمرة في هذا الحديث
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4958
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ شَهِدَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا أَرْبَعًا مِثْلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا وَيُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ".
کعب الاحبار کہتے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا پھر عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی، پھر اسی جیسی چار رکعتیں قرأت اور رکوع، سجدہ کے اتمام کے ساتھ پڑھیں، تو اسے شب قدر جیسا اجر ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4958]
حضرت ایمن مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت تبیع رحمہ اللہ سے اور وہ حضرت کعب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر عشاء کی نماز باجماعت پڑھے، پھر بعد میں اس جیسی چار رکعتیں اور پڑھے، ان میں (توجہ کے ساتھ) قراءت کرے اور رکوع اور سجدے مکمل کرے، اسے لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: مقطوع موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4958 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4958
اردو حاشہ:
حضرت ایمن کے بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت زبیر کے مولیٰ تھے یا ابن زبیر کے یا ابن عمر کے، بہر حال یہ تابعی تھے، حبشی تھے، مکی تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: 4951، 4957) نیز مذکورہ بالا دونوں روایات کی سند اگرچہ حسن ہے لیکن یہ مقطوع ہیں، یعنی تابعی کا قول ہے جو قطعا حدیث رسول کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتا۔
حضرت ایمن کے بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت زبیر کے مولیٰ تھے یا ابن زبیر کے یا ابن عمر کے، بہر حال یہ تابعی تھے، حبشی تھے، مکی تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے: 4951، 4957) نیز مذکورہ بالا دونوں روایات کی سند اگرچہ حسن ہے لیکن یہ مقطوع ہیں، یعنی تابعی کا قول ہے جو قطعا حدیث رسول کی حیثیت اختیار نہیں کرسکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4958]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4958 in Urdu
تبيع بن عامر الحميري ← كعب الأحبار