سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : التزعفر والخلوق
باب: زعفران اور خلوق لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ يَعْلَى نَحْوَهُ , خَالَفَهُ سُفْيَانُ رَوَاهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ يَعْلَى.
اس سند سے بھی یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) سفیان کی روایت اس کے برخلاف ہے، چنانچہ انہوں نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عبداللہ بن حفص سے اور انہوں نے یعلیٰ سے روایت کیا ہے۔ (عبداللہ بن حفص وہی ابوحفص بن عمرو ہے جو پچھلی سند میں ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی روایت منقول ہے، «خَالَفَهُ سُفْيَانُ» ”سفیان نے ان کی مخالفت کی ہے“ اس روایت میں سفیان بن عیینہ نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5124 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (5124) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يعلى بن مرة الثقفي، أبو المرازم | صحابي | |
👤←👥اسم مبهم اسم مبهم ← يعلى بن مرة الثقفي | 0 | |
👤←👥حفص بن عبد الله، أبو حفص حفص بن عبد الله ← اسم مبهم | مجهول | |
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد عطاء بن السائب الثقفي ← حفص بن عبد الله | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← عطاء بن السائب الثقفي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← أبو داود الطيالسي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5126 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5126
اردو حاشہ:
سفیان بن عیینہ اور شعبہ، دونوں نے یہ روایت عطاء بن سائب سے بیان کی ہے لیکن سفیان بن عیینہ نے شعبہ کی مخالفت کی ہے اور وہ اس طرح کہ جب سفیان نے عطاء بن سائب سے بیان کیا تو کہا: ”عن عطاء بن السائب، عبداللہ بن حفص“ یعنی سفیان نے عطاء کا استاد عبداللہ بن حفص کہا ہے جبکہ امام شعبہ کو عطاء بن سائب کے استاد کے نام میں تردد ہے، کبھی ابو حفص بن عمرو، کبھی حفص بن عمرو اور بسا اوقات وہ ابن عمرو کہتے ہیں۔ واللہ أعلم. مزید تفصیل کےلیے دیکھئے (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأ تیوبي: 38؍167۔168)
سفیان بن عیینہ اور شعبہ، دونوں نے یہ روایت عطاء بن سائب سے بیان کی ہے لیکن سفیان بن عیینہ نے شعبہ کی مخالفت کی ہے اور وہ اس طرح کہ جب سفیان نے عطاء بن سائب سے بیان کیا تو کہا: ”عن عطاء بن السائب، عبداللہ بن حفص“ یعنی سفیان نے عطاء کا استاد عبداللہ بن حفص کہا ہے جبکہ امام شعبہ کو عطاء بن سائب کے استاد کے نام میں تردد ہے، کبھی ابو حفص بن عمرو، کبھی حفص بن عمرو اور بسا اوقات وہ ابن عمرو کہتے ہیں۔ واللہ أعلم. مزید تفصیل کےلیے دیکھئے (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأ تیوبي: 38؍167۔168)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5126]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5126 in Urdu
اسم مبهم ← يعلى بن مرة الثقفي