سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابُ : الْجَلاَجِلِ
باب: گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ مِنْ وَلَدِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْخٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمٍ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ مَعَهُمْ أَجْرَاسٌ، فَحَدَّثَ نَافِعًا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمْ جُلْجُلٌ , كَمْ تَرَى مَعَ هَؤُلَاءٍ مِنَ الْجُلْجُلِ".
ابوبکر بن ابی شیخ کہتے ہیں کہ میں سالم کے ساتھ بیٹھا ہو تھا۔ اتنے میں ام البنین کا ایک قافلہ ہمارے پاس سے گزرا ان کے ساتھ کچھ گھنٹیاں تھیں، تو نافع سے سالم نے کہا کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو یا گھنٹے ہوں، ان کے ساتھ تو بہت سارے گھنٹے دکھائی دے رہے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5222]
حضرت ابوبکر بن ابی شیخ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت سالم رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ہمارے پاس سے ام البنین کا ایک تجارتی قافلہ گزرا، ان کے ساتھ (بہت سی) گھنٹیاں تھیں تو حضرت سالم رحمہ اللہ نے حضرت نافع رحمہ اللہ کو اپنے والد محترم (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں جاتے جس میں ایک گھنٹی بھی ہو۔“ کیا خیال ہے، ان کے ساتھ کتنی گھنٹیاں ہوں گی؟ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔ شراف: 7039)، مسند احمد (2/27)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5223، 5223م) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5222 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5222
اردو حاشہ:
گھنٹیوں وغیرہ سے روکنے کی وجہ میں اختلاف ہے۔ یا تو شیطانی آواز ہونے کی وجہ سے کیونکہ یہ جانوروں اور لوگوں کو مست کرتی ہے۔ گویا موسیقی کےحکم میں ہے۔ یا اس لیے کہ گھنٹی وغیرہ کی آواز سے لشکر کی آمد کا پتا چل جاتا تھا جب کہ بسا اوقات اچانک حملہ مقصود ہوتا تھا۔ یہ وجہ ہو تو مخصوص حالات میں منع ہو گی۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ مطلقا منع ہے کیونکہ حدیث نمبر 5224 میں گھر کا بھی ذکر ہے۔
گھنٹیوں وغیرہ سے روکنے کی وجہ میں اختلاف ہے۔ یا تو شیطانی آواز ہونے کی وجہ سے کیونکہ یہ جانوروں اور لوگوں کو مست کرتی ہے۔ گویا موسیقی کےحکم میں ہے۔ یا اس لیے کہ گھنٹی وغیرہ کی آواز سے لشکر کی آمد کا پتا چل جاتا تھا جب کہ بسا اوقات اچانک حملہ مقصود ہوتا تھا۔ یہ وجہ ہو تو مخصوص حالات میں منع ہو گی۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ مطلقا منع ہے کیونکہ حدیث نمبر 5224 میں گھر کا بھی ذکر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5222]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5222 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي