🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب : وصل الشعر بالخرق
باب: چیتھڑے سے بال جوڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنِ الزُّورِ" , قَالَ: وَجَاءَ بِخِرْقَةٍ سَوْدَاءَ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا تَجْعَلُهُ الْمَرْأَةُ فِي رَأْسِهَا، ثُمَّ تَخْتَمِرُ عَلَيْهِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: لوگو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے، راوی (ابن المسیب) کہتے ہیں: اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا: یہی ہے وہ (یعنی جھوٹ اور فریب کاری)، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5249]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جعلی بال لگانے سے منع فرمایا ہے۔ پھر آپ ایک سیاہ رنگ کا کپڑا لائے اور لوگوں کے سامنے پھینکا اور فرمایا: یہ ہے وہ جعل سازی، عورت اسے اپنے بالوں میں لگاتی ہے، پھر اوپر سے اوڑھنی اوڑھ لیتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥يعقوب بن القعقاع الأزدي، أبو الحسن
Newيعقوب بن القعقاع الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← يعقوب بن القعقاع الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محبوب بن موسى الأنطاكي، أبو صالح
Newمحبوب بن موسى الأنطاكي ← العباس بن عبد العظيم العنبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن يحيى الزنجاري
Newعمرو بن يحيى الزنجاري ← محبوب بن موسى الأنطاكي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5249 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5249
اردو حاشہ:
(1) خرق اس کا مفرد خرقۃ ہے، یعنی دھجی (کپڑے کی لمبی پٹی)۔
(2) اوڑھ لیتی ہے تاکہ جعل سازی کا پتا نہ چلے اور بال زیادہ محسوس ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں میں کسی چیز کا اضافہ درست نہیں خواہ دوسری چیز بال ہوں یا کپڑے کے ٹکڑے جن سے کسی کو بالوں کی کثرت کا دھوکا دیا جاسکے۔ البتہ بالوں کو قابو کرنے کے لیے دھاگے وغیرہ کا پراندہ استعمال کیا جاسکتا ہے خواہ وہ سیاہ ہی ہو کیونکہ اس سے دھوکا دہی نہیں ہوتی۔ وہ سر پر نہیں ہوتا کہ کثرت کا گمان ہو بلکہ وہ پشت پر لٹکتا ہے نیز اسے دیکھنے سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ بال نہیں دھاگا ہے۔
(3) اس حدیث کا ترجمہ ایک اورانداز سے بھی ممکن ہے کہ آپ سیاہ رنگ کا کپڑا لائے اور لوگوں کے سامنے پھینکا اور فرمایا: اسے عورت اپنے بالوں میں لگا سکتی ہے۔ اوپر سے اوڑھنی او‎ڑھ لے۔ اس صورت میں سیاہ رنگ کے کپڑے سے مراد پراندہ ہی ہے کہ اس کا استعمل جائز ہے۔ حدیث کا مقصد یہ ہو گا کہ جعلی بال ملانے درست نہیں کیونکہ ان سے دھوکا دہی ہوتی ہے۔ البتہ کپڑا یا پراندہ وغیرہ لگا لیا جائے تاکہ بال منتشر نہ ہوں اور انہیں اس کے ساتھ باندھ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ کپڑے کے ساتھ جعل سازی ممکن نہیں۔ وہ دور ہی سے بالوں سے مختلف نظر آتا ہے اور اس کا مقصد بھی سمجھ میں آتا ہے۔ پہلا ترجمہ الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5249]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5249 in Urdu