سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ : مَوْضِعِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کس انگلی میں ہو؟
حدیث نمبر: 5287
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ" , وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ.
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بولے: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
حضرت ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے میں آپ کی چاندی والی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، اللباس 16 (2095)، (تحفة الٔاشراف: 333)، مسند احمد (3/276) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء 3/298، 302، وتراجع الالبانی 159)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود بهز بن أسد العمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن نافع القيسي، أبو بكر محمد بن نافع القيسي ← بهز بن أسد العمي | صدوق حسن الحديث |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5287 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5287
اردو حاشہ:
”اٹھایا“ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ آپ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہنتے تھے لیکن دیگر کثیر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے کیونکہ یہ زینت ہے اور آپ اچھے امور میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے تھے خصوصاً جب کہ آپ کی انگوٹھی میں اللہ تعالیٰ اور خود آپ کا نام نامی تھا اوربایاں ہاتھ تو استنجا وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ کیا ایسے متبرک اور مقدس نام استنجا والے ہاتھ کے لائق ہے؟ ہر گز نہیں۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ کبھی کبھار بائیں ہاتھ میں ڈالی گئی ہو۔ ویسے بھی عموماً کام دائیں ہاتھ سے کیے جاتے ہیں۔ آپ مہر لگانے کےلیے انگوٹھی پہنتے تھے اور مہر لگانا بھی ایک کام ہے لہٰذا یہ بھی دائیں ہاتھ ہی سے ہونا چاہیے اور بہ تبھی ہوگا اگر انگوٹہی دائیں ہاتھ میں ہو۔
”اٹھایا“ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ آپ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں انگوٹھی پہنتے تھے لیکن دیگر کثیر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے کیونکہ یہ زینت ہے اور آپ اچھے امور میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے تھے خصوصاً جب کہ آپ کی انگوٹھی میں اللہ تعالیٰ اور خود آپ کا نام نامی تھا اوربایاں ہاتھ تو استنجا وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ کیا ایسے متبرک اور مقدس نام استنجا والے ہاتھ کے لائق ہے؟ ہر گز نہیں۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ کبھی کبھار بائیں ہاتھ میں ڈالی گئی ہو۔ ویسے بھی عموماً کام دائیں ہاتھ سے کیے جاتے ہیں۔ آپ مہر لگانے کےلیے انگوٹھی پہنتے تھے اور مہر لگانا بھی ایک کام ہے لہٰذا یہ بھی دائیں ہاتھ ہی سے ہونا چاہیے اور بہ تبھی ہوگا اگر انگوٹہی دائیں ہاتھ میں ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5287]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5287 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري