🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
115. بَابُ : اللُّحُفِ
باب: اوڑھنے والی چادر (لحاف) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5368
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ , وَمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا"، قَالَ سُفْيَانُ:" مَلَاحِفِنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5368]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لحافوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ سفیان نے ( «لُحُف» کی بجائے «مَلَاحِف») کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 134 (367)، الصلاة 87 (645)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (الجمعة 67) (600)، (تحفة الأشراف: 16221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا آپ احتیاط کے طور پر کرتے تھے، کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ کوئی ایسی چیز ہو جو آپ کے لیے باعث تکلیف ہو، بہرحال اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ آپ کے اہل خانہ لحاف استعمال کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فيه نصب
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن شقيق العقيلي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥أشعث بن عبد الملك الحمراني، أبو هانئ
Newأشعث بن عبد الملك الحمراني ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← أشعث بن عبد الملك الحمراني
ثقة
👤←👥سفيان بن حبيب البصري، أبو محمد، أبو حبيب، أبو معاوية
Newسفيان بن حبيب البصري ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
👤←👥الحسن بن قزعة القرشي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن قزعة القرشي ← سفيان بن حبيب البصري
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5368 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5368
اردو حاشہ:
(1) امہات المومنین اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحاف استعمال کیا کرتے تھے، نیز مذکورہ حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ خواتین و بچوں کے استعمال کے کپڑے اور دیگر ایسے کپڑے بھی جن کی بابت یہ گمان ہو کہ ان میں نجاست اور پلیدی ہو سکتی ہے، ان میں نماز پڑھنے سے احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ مشکوک چیز سے پر ہیز کرنا اور یقین پر بنیاد رکھنا مطلوب شریعت ہے۔
(2) لحافوں وغیرہ میں نماز نہ پڑھنے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عموماً لحاف بھاری ہوتے ہیں جنہیں جلدی نہیں دھویا جا سکتا، اس لیے ان میں اگر کوئی نجاست لگ جائے تو وہ عرصۂ دراز تک باقی رہتی ہے، جب کہ ان کا استعمال روزانہ ہوتا ہے۔ گندگی لگنے کا احتمال تو جماع کے وقت بھی ہوتا ہے، اس لیے عموماً اوپر اوڑھے جانے والے لحافوں سے نماز کے وقت پرہیز کیا جائے۔ واللہ أعلم۔
(3) اگر لحاف کے پاک ہونے کا یقین ہو تو پھر نماز جائز ہے۔ مذکورہ حدیث میں عمومی بات کا ذکر ہے کہ اکثر ان کا خیا ل نہیں رکھا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجامعت والے کپڑوں میں جبکہ وہ صاف ہوتے، نماز پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لحاف میں وحی بھی نازل ہو جاتی تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5368]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5368 in Urdu