سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. بَابُ : حِلْيَةِ السَّيْفِ
باب: تلوار کے دستہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 5376
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَجَرِيرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ نَعْلُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، وَقَبِيعَةُ سَيْفِهِ فِضَّةٌ , وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ حِلَقُ فِضَّةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا نعل چاندی کا تھا، اس کے دستے کے کنارے پر بھی چاندی لگی تھی اور اس کے درمیان میں بھی چاندی کے حلقے بنے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 71 (2583)، سنن الترمذی/الجھاد 16 (1691)، والشمائل 13 (99)، (تحفة الأشراف: 1146، 1425، 18688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5376 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5376
اردو حاشہ:
نعل سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جو تلوار کی میان کے نبیچے لگا ہوتا ہے۔ گویا آپ کی میان میں لوہے کی بجائے چاندی لگی تھی۔ اور قبیعہ سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جسے تلوار کے دستے کے ایک کنارے میں لگایا جاتا ہے۔
نعل سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جو تلوار کی میان کے نبیچے لگا ہوتا ہے۔ گویا آپ کی میان میں لوہے کی بجائے چاندی لگی تھی۔ اور قبیعہ سے مراد وہ چاندی یا لوہا ہے جسے تلوار کے دستے کے ایک کنارے میں لگایا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5376]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5376 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري