یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الاستعاذة من شر فتنة القبر
باب: قبر کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَأَنْقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا أَنْقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر وشر فتنة المسيح الدجال وشر فتنة الفقر وشر فتنة الغنى اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، مسیح دجال کے فتنے کے شر سے، فقر کے فتنے کے شر سے، مالداری کے فتنے کے شر سے، اے اللہ! میرے گناہ برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، میرا دل گناہوں سے پاک کر دے جیسے تو نے سفید کپڑا گندگی سے صاف کیا ہے، اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری پیدا کر دے جیسے تو نے پورب اور پچھم کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5468]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں آگ تک پہنچانے والے فتنے، آگ کے عذاب، قبر کی آزمائش، عذابِ قبر، مسیح دجال کے فتنے کی خرابی، آزمائشِ فقر کی خرابی اور آزمائشِ دولت کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میری غلطیوں کو برف کے پانی اور اولوں سے دھو ڈال، اور میرے دل کو غلطیوں کے اثرات سے یوں صاف فرما دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف رکھا ہے، نیز میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنا فاصلہ فرما دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے۔ اے اللہ! کاہلی، شدید بڑھاپے، گناہ اور جان لیوا قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16856)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 39 (6368)، 44-46 (6375-6377)، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، الذکر 14 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3495)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (6/57، 207) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5468 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5468
اردو حاشہ:
(1) فتنہ دراصل کسی چیز کی آزمائش کو کہا جاتا ہے‘ مثلاً سونے کو آگ میں ڈال کر کھرے کھو ٹے کو جاننا۔ انسان کو بھی مختلف چیزوں کے ساتھ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے‘ مثلاً: فقر اور دولت وغیرہ تاکہ اس کا ایمان یا کفر ظاہر ہو سکے۔ اسی طرح دجال کے ذریعے سے بھی لوگوں کی آزمائش ہوگی۔ قبر کے سوال و جواب سے بھی ایمان وکفر کا پتا چلے گا‘ اس لیے ان چیزوں کو فتنہ کہا گیا ہے۔
(2) فتنہ قبر سے مراد سوال و جواب ہیں جو فرشتوں اور مدفون انسان کے درمیان ہوتے ہیں۔ اور ان فتنوں کی خرابی سے مرا د یہ ہے کہ ان چیزوں کے ساتھ آزمائش کے دوران انسان ناکام ہو جائے اور ایمان کے بجائے کفر ظاہر ہو۔
(3)غلطیوں کو دھو ڈالنے کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے ‘حدیث: 61 اور 896۔
(1) فتنہ دراصل کسی چیز کی آزمائش کو کہا جاتا ہے‘ مثلاً سونے کو آگ میں ڈال کر کھرے کھو ٹے کو جاننا۔ انسان کو بھی مختلف چیزوں کے ساتھ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے‘ مثلاً: فقر اور دولت وغیرہ تاکہ اس کا ایمان یا کفر ظاہر ہو سکے۔ اسی طرح دجال کے ذریعے سے بھی لوگوں کی آزمائش ہوگی۔ قبر کے سوال و جواب سے بھی ایمان وکفر کا پتا چلے گا‘ اس لیے ان چیزوں کو فتنہ کہا گیا ہے۔
(2) فتنہ قبر سے مراد سوال و جواب ہیں جو فرشتوں اور مدفون انسان کے درمیان ہوتے ہیں۔ اور ان فتنوں کی خرابی سے مرا د یہ ہے کہ ان چیزوں کے ساتھ آزمائش کے دوران انسان ناکام ہو جائے اور ایمان کے بجائے کفر ظاہر ہو۔
(3)غلطیوں کو دھو ڈالنے کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے ‘حدیث: 61 اور 896۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5468]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5468 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق