🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : خليط البسر والتمر
باب: ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْبُسْرُ وَحْدَهُ حَرَامٌ وَمَعَ التَّمْرِ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ادھ کچی کھجور تنہا بھی حرام اور سوکھی کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5560]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «بُسْر» یعنی گدر کھجور اکیلی کی نبیذ بھی حرام ہے اور خشک کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6046) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا نبیذ بنانا جائز اور صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حميد الطويل مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة مدلس
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة متقن
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين
Newأحمد بن سليمان الرهاوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5560 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5560
اردو حاشہ:
ممکن ہے بسر کی نبیذ میں جلدی نشہ پیدا ہوتا ہو، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ اسے حرام سمجھے ہوں۔ بہر صورت یہ حرام تبھی ہے جب اس میں نشہ پید ا ہو جائے ورنہ نہیں مگر بسر وتمر کی مشترکہ نبیذ ہر حال میں حرام ہے نشہ پیدا ہو یا نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلقا منع فرمایا ہے۔ اگرچہ احناف کے نزدیک مشترکہ نبیذ اگر نشہ آور نہ ہو تو جائز ہے مگر یہ صریح احادیث کے خلاف ہے۔ رائے اور قیاس نص کے مقابلے میں مذموم ہے۔ (مزید دیکھیے، حدیث: 5549)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5560]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5560 in Urdu