سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : الصلاة في الكعبة
باب: خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 693
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کر لیا (تاکہ لوگ رش نہ کریں)۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلے داخل ہوا۔ میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے ان سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے میں نماز پڑھی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، آپ نے (اگلی صف کے بائیں طرف والے) دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (468)، 96 (504، 505)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598، 1599)، الجھاد 127 (2988) مطولاً، المغازي 49 (4289) مطولاً، 77 (4400) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن ابی داود/الحج 93 (2023، 2024، 2025)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد 2/23، 33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15، سنن الدارمی/المناسک 43 (1909)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 750، 2908، 2909، 2910، 2911 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 693 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 693
693 ۔ اردو حاشیہ:
➊ کعبے میں آپ کا نماز پڑھنا صحیح ثابت ہے، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ اب کوئی کعبے کے اندر نماز پڑھ سکتا ہے؟ علامہ عراقی رحمہ اللہ کے بقول اگرچہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر صرف نفل نماز پڑھی ہے لیکن فرض نماز بھی اس کے تحت داخل ہے کیونکہ اصولی طور پر نفل اور فرض نمازیں ارکان و واجبات اور شرائط کے اعتبار سے جمیع احکام میں یکساں ہیں، سوائے ان امور کے جو کسی دلیل سے مستثنیٰ ہوں، لہٰذا کعبے کے اندرفرض نماز بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ علماء کے اس اختلاف کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک نفل نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں جبکہ فرض نماز کی ادائیگی مکروہ ہے اور بقول امام شافعی رحمہ اللہ نفل اور فرض دونوں قسم کی نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ طہارت، وضو اور قبلے کے حکم میں (چند مخصوص احکام کے سوا) دونوں برابر ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: [ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 499/8]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کعبے کے چھ ستون تھے۔ تین اگلی صف میں، تین پچھلی صف میں۔ بائیں طرف کے ستونوں کو یمنی کہا جاتا تھا۔
➊ کعبے میں آپ کا نماز پڑھنا صحیح ثابت ہے، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ اب کوئی کعبے کے اندر نماز پڑھ سکتا ہے؟ علامہ عراقی رحمہ اللہ کے بقول اگرچہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر صرف نفل نماز پڑھی ہے لیکن فرض نماز بھی اس کے تحت داخل ہے کیونکہ اصولی طور پر نفل اور فرض نمازیں ارکان و واجبات اور شرائط کے اعتبار سے جمیع احکام میں یکساں ہیں، سوائے ان امور کے جو کسی دلیل سے مستثنیٰ ہوں، لہٰذا کعبے کے اندرفرض نماز بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ علماء کے اس اختلاف کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک نفل نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں جبکہ فرض نماز کی ادائیگی مکروہ ہے اور بقول امام شافعی رحمہ اللہ نفل اور فرض دونوں قسم کی نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ طہارت، وضو اور قبلے کے حکم میں (چند مخصوص احکام کے سوا) دونوں برابر ہیں۔ ملاحظہ کیجیے: [ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائي: 499/8]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کعبے کے چھ ستون تھے۔ تین اگلی صف میں، تین پچھلی صف میں۔ بائیں طرف کے ستونوں کو یمنی کہا جاتا تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 693]
Sunan an-Nasa'i Hadith 693 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي