سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : مبادرة الإمام
باب: رکوع، سجود وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 831
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى فَلَمَّا كَانَ فِي الْقَعْدَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ. فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قال: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قال: لَا وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ".
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ۱؎، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری (دعا) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ (رکوع) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 831]
حضرت حطان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب وہ (آخری) قعدے میں تھے تو ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے کہا: ”نماز کو نیکی اور زکاۃ سے ملایا گیا ہے۔“ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟“ لوگ خاموش رہے۔ آپ فرمانے لگے: ”اے حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔ ویسے مجھے خطرہ تھا کہ آپ مجھے ہی اس بات پر ڈانٹیں گے۔“ آپ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہماری نماز اور دوسرے طریقے سکھائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے چنانچہ جب وہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ لے تو تم «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہہ لے تو تم ”آمین“ کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری دعا قبول فرمائے گا۔ اور جب امام رکوع میں چلا جائے تو تم رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے اور «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”ربنا لک الحمد“ کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری حمد سنے گا۔ اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو تم سجدہ کرو، اور جب وہ سر اٹھا لے تو پھر تم سر اٹھاؤ، امام تم سے پہلے سجدے میں جاتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جلدی سر اٹھانا جلدی جانے کے مقابلے میں ہے۔“ (یعنی ادھر کی کسر ادھر نکل گئی)۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (972، 973)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 24 (901)، (تحفة الأشراف: 8987)، مسند احمد 4/393، 394، 401، 405، 409، 415، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1351)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1065، 1173، 1281 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: نماز کا نیکی اور زکاۃ کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے، اور تینوں کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 831 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 831
831 ۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز کو نیکی اور زکاۃ سے ملایا گیا ہے۔ کا مطلب ہے کہ جس طرح نیکی اور زکاۃ کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح نماز بھی مامور بہ ہے۔ جس طرح وہ دونوں چیزیں اجر و ثواب کا باعث ہیں نماز بھی موجب اجر و ثواب ہے۔
➋ حدیث میں امام کی اقتدا کرنے کی تاکید اور اقتدا کرنے کے مفہوم کا بیان ہے۔
➊ نماز کو نیکی اور زکاۃ سے ملایا گیا ہے۔ کا مطلب ہے کہ جس طرح نیکی اور زکاۃ کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح نماز بھی مامور بہ ہے۔ جس طرح وہ دونوں چیزیں اجر و ثواب کا باعث ہیں نماز بھی موجب اجر و ثواب ہے۔
➋ حدیث میں امام کی اقتدا کرنے کی تاکید اور اقتدا کرنے کے مفہوم کا بیان ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 831]
Sunan an-Nasa'i Hadith 831 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري