🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ : تَرْكِ السُّجُودِ فِي النَّجْمِ
باب: سورۃ النجم میں سجدہ نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ. فَقَالَ:" لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 961]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”کسی چیز میں امام کے ساتھ قرأت نہیں۔“ اور فرمایا: ”میں نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ [سورة النجم: 1] ”قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہو جائے۔“ تلاوت کی تو آپ نے سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072، 1073) (بدون قولہ في القرأة)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، سنن ابی داود/الصلاة 329 (1404) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 287 (576) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3733)، ح صحیح مسلم/5/183، 186، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ۲؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورۃ النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← زيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥يزيد بن قسيط الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن قسيط الليثي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥يزيد بن خصيفة الكندي
Newيزيد بن خصيفة الكندي ← يزيد بن قسيط الليثي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← يزيد بن خصيفة الكندي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 961 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 961
961 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس قول میں قرأت سے مراد سورہ فاتحہ سے بعد والی قرأت ہے تاکہ تمام احادیث میں مطابقت ممکن ہو۔
➋ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ نہ کرنا اس بنا پر تھا کہ قاری، یعنی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہ کیا تھا، البتہ اس سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ سجدۂ تلاوت فرض نہیں، مستحب ہے، ورنہ آپ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیتے اور خود بھی کرتے۔ مگر امام مالک رحمہ اللہ کا استدلال درست نہیں کہ سورۂ نجم میں سجدہ منسوخ ہے کیونکہ دونوں روایات میں تطبیق ممکن ہے کہ فرض نہیں، مستحب ہے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی متاخر صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصلات میں سجدے کیے ہیں۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 578]
لہٰذا انہیں منسوخ کیسے کہا: جا سکتا ہے؟ مفصلات سے مراد سورۂ حجرات سے آخر قرآن تک کی سورتیں ہیں۔ ان میں تین سجدے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 961]

Sunan an-Nasa'i Hadith 961 in Urdu