الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء في شأن الحساب والقصاص
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2418]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2581) (تحفة الأشراف: 14073)، و مسند احمد (2/303، 334، 372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں، اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں، اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں، یہی حقیقی مفلس ہے، باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال و دولت کی کمی کی وجہ سے مفلس و بے چارگی کی زندگی گزارتا ہے، تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے، اور اگر نہیں بھی سدھری تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے، کیونکہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (845) ، أحكام الجنائز (4)
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2418 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2418
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں،
اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں،
اور اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں،
یہی حقیقی مفلس ہے،
باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال ودولت کی کمی کی وجہ سے مفلس وبے چارگی کی زندگی گزار تا ہے،
تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے،
اور اگر نہیں بھی سدھر ی تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے،
کیوں کہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں،
اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں،
اور اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں،
یہی حقیقی مفلس ہے،
باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال ودولت کی کمی کی وجہ سے مفلس وبے چارگی کی زندگی گزار تا ہے،
تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے،
اور اگر نہیں بھی سدھر ی تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے،
کیوں کہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2418]
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي