سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب ما جاء في الدعاء إذا انتبه من الليل
باب: رات میں نیند سے جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3415
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ، وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَة.
مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار (یعنی ایک لاکھ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19181) (ضعیف الإسناد) (سند میں ”مسلمہ بن عمرو شامی“ مجہول راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں، ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں، اور ثقہ ہیں، ۱۲۷ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:(3415) إسناده ضعيف
مسلمة بن عمرو: مجهول (تق:6663)
مسلمة بن عمرو: مجهول (تق:6663)
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3415 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3415
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں،
ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں،
اور ثقہ ہیں، 127ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
نوٹ:
(سند میں ”مسلمہ بن عمرو شامی“ مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
یہ دمشق کے رہنے والے ایک تابعی ہیں،
ستۃ کے رواۃ میں سے ہیں،
اور ثقہ ہیں، 127ھ میں شہید کر دیئے گئے۔
نوٹ:
(سند میں ”مسلمہ بن عمرو شامی“ مجہول راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3415]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3415 in Urdu