سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب مناقب أنس بن مالك رضى الله عنه
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: " يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي , فَإِنَّكَ لَنْ تَأْخُذَ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي، إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ، وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ.
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3831]
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 491) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3831 ، 3832) إسناده ضعيف
ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال ، وثقه ابن حبان وحده
ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال ، وثقه ابن حبان وحده
الرواة الحديث:
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3831 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3831
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3831]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3831 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري