🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. ( باب )
(مرسل کی حجیت کے قائلین)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُليْمَانَ مِيزَانًا فِي الْعِلْمِ.
‏‏‏‏ عبداللہ بن المبارک سے روایت ہے کہ سفیان ثوری کہتے تھے: عبدالملک بن ابی سلیمان علم کی میزان ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: 3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ: تَرَكَهُ شُعْبَةُ مِنْ أَجْلِ الْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ فِي الصَّدَقَةِ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:"خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ".
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے حکیم بن جبیر کے بارے میں سوال کیا تو کہا: صدقہ والی حدیث کی روایت کی وجہ سے شعبہ نے ان سے روایت ترک کر دی، یعنی ابن مسعود کی حدیث کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے سوال کیا اور اس کے پاس موجود مال اس کو دوسروں سے بے نیاز کر دینے والا ہے، تو وہ قیامت کے دن ایسے ہو گا کہ اس کے چہرہ پر خراش ہو گی، کہا گیا: اللہ کے رسول! اسے کون سی چیز دوسروں سے بے نیاز کرے گی؟ فرمایا: پچاس درہم (چاندی کے) یا اس قیمت کا سونا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى: وَقَدْ حَدَّثَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَزَائِدَةُ.
‏‏‏‏ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں: سفیان ثوری اور زائدہ نے حکیم بن جبیر سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ عَلِيُّ: وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا.
‏‏‏‏ اور علی بن المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان کے نزدیک حکیم بن جبیر کی حدیث میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِحَدِيثِ الصَّدَقَةِ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن آدم نے، یحییٰ نے سفیان ثوری سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ حکیم بن جبیر نے صدقہ والی حدیث روایت کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ صَاحِبُ شُعْبَةَ لِسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: لَوْ غَيْرُ حَكِيمٍ حَدَّثَ بِهَذَا؟ فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ: وَمَا لِحَكِيمٍ لا يُحَدِّثُ عَنْهُ شُعْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: سَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
‏‏‏‏ یحیی بن آدم کہتے ہیں: شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے سفیان ثوری سے کہا: اگر صدقہ والی حدیث حکیم بن جبیر کے علاوہ کسی اور نے روایت کی ہوتی تو کیا حکم ہوتا؟۔ سفیان ثوری نے جواب دیا: حکیم کو کیا ہو گیا کہ شعبہ نے ان سے روایت نہیں کی؟ عبداللہ بن عثمان نے کہا: ہاں! (ایسے ہی ہے، شعبہ نے حکیم سے روایت نہیں کی) تو سفیان ثوری نے کہا: میں نے زبید کو یہ حدیث محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَا ذَكَرْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ"حَدِيثٌ حَسَنٌ"؛ فَإِنَّمَا أَرَدْنَا بِهِ حُسْنَ إِسْنَادِهِ عِنْدَنَا.
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم نے اس کتاب میں جس حدیث کو حسن کہا ہے اس سے ہماری مراد اس کی سند کا حسن ہونا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
كُلُّ حَدِيثٍ يُرْوَى لا يَكُونُ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ يُتَّهَمُ بِالْكَذِبِ، وَلا يَكُونُ الْحَدِيثُ شَاذًّا، وَيُرْوَى مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ نَحْوَ ذَاكَ؛ فَهُوَ عِنْدَنَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
‏‏‏‏ ہر وہ حدیث جس کی سند میں متہم بالکذب راوی نہ ہو اور نہ وہ شاذ ہو اور وہ دوسرے طرق سے مروی ہو تو یہ ہمارے نزدیک حسن ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَمَا ذَكَرْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ"حَدِيثٌ غَرِيبٌ" فَإِنَّ أَهْلَ الْحَدِيثِ يَسْتَغْرِبُونَ الْحَدِيثَ لِمَعَانٍ:
‏‏‏‏ اور ہم نے اس کتاب میں جن احادیث کو غریب کہا ہے تو اہل حدیث کے نزدیک غریب حدیث کے مختلف معانی ہیں: [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
1- رُبَّ حَدِيثٍ يَكُونُ غَرِيبًا لا يُرْوَى إِلا مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ مِثْلُ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعُشَرَائِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلا فِي الْحَلْقِ وَاللِّبَّةِ؟ فَقَالَ:"لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا أَجْزَأَ عَنْكَ".
‏‏‏‏ ۱- کبھی حدیث کی غرابت یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف ایک سند سے مروی ہوتی ہے جیسے حماد بن سلمہ کی حدیث جس کو وہ ابوالعشرا ء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ اپنے باپ سے، عشراء کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول: کیا ذبح کی جگہ صرف حلق اور گردن ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں زخم لگاؤ گے تو یہ بھی کافی ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
فَهَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَائِ، وَلا يُعْرَفُ لأَبِي الْعُشَرَائِ، عَنْ أَبِيهِ إِلا هَذَا الْحَدِيثُ، وَإِنْ كَانَ هَذَا الْحَدِيثُ مَشْهُورًا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ؛ وَإِنَّمَا اشْتُهِرَ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، لا نَعْرِفُهُ إِلا مِنْ حَدِيثِهِ.
‏‏‏‏ حماد بن سلمہ اس حدیث کی ابوالعشراء سے روایت میں منفرد ہیں، ابوالعشراء کی اپنے والد سے صرف یہی ایک حدیث معروف ہے، گرچہ اہل علم کے نزدیک یہ حدیث مشہور ہے، اور یہ صرف حماد بن سلمہ کی حدیث سے مشہور ہے، ہمیں اس کا علم صرف انہیں کی حدیث سے ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
2-وَرُبَّ رَجُلٍ مِنْ الأَئِمَّةِ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ لا يُعْرَفُ إِلا مِنْ حَدِيثِهِ، فَيَشْتَهِرُ الْحَدِيثُ لِكَثْرَةِ مَنْ رَوَى عَنْهُ مِثْلُ مَا رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلائِ وَعَنْ هِبَتِهِ". وَهَذَا حَدِيثٌ لا نَعْرِفُهُ إِلا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، رَوَاهُ عَنْهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَشُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ.
‏‏‏‏ ۲- اور کبھی کوئی امام حدیث ایک حدیث روایت کرتا ہے، جو صرف اسی امام کی حدیث سے معروف ہوتی ہے، اور حدیث کی شہرت اس سے روایت کرنے والوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے عبداللہ بن دینار کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کی خرید و فروخت اور ہبہ سے منع کیا ہے، اس حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن دینار ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور ان سے روایت عبیداللہ بن عمر، شعبہ، سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ اور دوسرے کئی ائمہ نے کی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ؛ فَوَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَالصَّحِيحُ هُوَ"عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ". هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى الْمُؤَمِّلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شُعْبَةَ فَقَالَ شُعْبَةُ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ دِينَارٍ أَذِنَ لِي حَتَّى كُنْتُ أَقُومُ إِلَيْهِ فَأُقَبِّلُ رَأْسَهُ.
‏‏‏‏ یحیی بن سلیم نے اس حدیث کی روایت بسند «عبیداللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی ہے، یحییٰ بن سلیم کو اس روایت میں وہم ہو گیا ہے، صحیح بسند «عبیداللہ بن عمر عن عبداللہ بن دینار عن ابن عمر» ہی ہے۔ ایسے ہی اس حدیث کی روایت عبدالوہاب ثقفی اور عبداللہ بن نمیر نے بسند «عبیداللہ بن عمر عن عبداللہ بن دینار عن ابن عمر» کی ہے۔ مؤمل نے اس حدیث کی روایت شعبہ سے کی ہے، شعبہ کہتے ہیں: مجھے یہ پسند ہے کہ عبداللہ بن دینار مجھے اجازت دیں کہ میں ان کے پاس اٹھ کر آؤں اور ان کا سر چوم لوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
3- قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرُبَّ حَدِيثٍ إِنَّمَا يُسْتَغْرَبُ لِزِيَادَةٍ تَكُونُ فِي الْحَدِيثِ.
‏‏‏‏ ۳- ترمذی کہتے ہیں: بعض مرتبہ حدیث میں غرابت کسی الفاظ کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَإِنَّمَا يَصِحُّ إِذَا كَانَتْ الزِّيَادَةُ مِمَّنْ يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ مِثْلُ مَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
‏‏‏‏ الفاظ کی زیادتی اس وقت صحیح ہو گی جب یہ حفظ کے اعتبار سے قابل اعتماد راوی کی روایت سے ہو جیسے مالک بن انس کی بسند «نافع عن ابن عمر» روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں زکاۃ فطر ہر مسلمان آزاد اور غلام مرد اور عورت سب پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ: وَزَادَ مَالِكٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ"مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
‏‏‏‏ مالک نے اس حدیث میں «من المسلمین» کا لفظ زیادہ روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَرَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ:"مِنْ الْمُسْلِمِينَ".
‏‏‏‏ ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر اور کئی ائمہ حدیث نے اس حدیث کو بسند «نافع عن ابن عمر» روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں «من المسلمین» کا لفظ نہیں ذکر کیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَ رِوَايَةِ مَالِكٍ مِمَّنْ لا يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ.
‏‏‏‏ بعض رواۃ نے نافع سے مالک کی روایت کے ہم مثل روایت کی، جو حفظ میں قابل اعتماد نہیں ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَقَدْ أَخَذَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ بِحَدِيثِ مَالِكٍ، وَاحْتَجُّوا بِهِ، مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالا: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَبِيدٌ غَيْرُ مُسْلِمِينَ لَمْ يُؤَدِّ عَنْهُمْ صَدَقَةَ الْفِطْرِ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ مَالِكٍ.
‏‏‏‏ کئی ائمہ حدیث نے مالک کی حدیث پر اعتماد کیا ہے جن میں شافعی اور احمد بن حنبل ہیں، یہ دونوں کہتے ہیں کہ آدمی کے پاس اگر غیر مسلم غلام ہوں تو ان کی طرف سے زکاۃ فطر نہیں نکالے گا۔ اور اس پر مالک کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
فَإِذَا زَادَ حَافِظٌ مِمَّنْ يُعْتَمَدُ عَلَى حِفْظِهِ قُبِلَ ذَلِكَ عَنْهُ.
‏‏‏‏ اور اگر حفظ میں قابل اعتماد راوی حدیث میں کوئی لفظ زیادہ روایت کرے تو اس کی زیادتی قبول کی جائے گی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
4- وَرُبَّ حَدِيثٍ يُرْوَى مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنَّمَا يُسْتَغْرَبُ لِحَالِ الإِسْنَادِ.
‏‏‏‏ ۴- اور کبھی حدیث بہت سارے طرق سے مروی ہوتی ہے لیکن غرابت مخصوص سند کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، وَأَبُو السَّائِبِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَائٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ".
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: ہم سے ابوکریب، ابوہشام رفاعی، ابوالسائب، حسین بن الاسود نے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسامہ نے روایت کی، ابواسامہ بسند «برید بن عبداللہ بن ابی بردة عن جدہ ابی بردة» روایت کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنت میں ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، یہ متعدد طرق سے مرفوعاً مروی ہے، [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.
‏‏‏‏ غرابت صرف ابوموسیٰ کی روایت سے ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3963
سَأَلْتُ مَحْمُودَ بْنَ غَيْلانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے بارے میں محمود بن غیلان سے پوچھا تو انہوں کہا: یہ صرف بروایت ابوکریب، ابواسامہ سے مروی ہے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3963]


Sunan at-Tirmidhi Hadith 3963 in Urdu