سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب ما جاء في الذي يصلي الفريضة ثم يؤم الناس بعد ما صلى
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ " مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: إِذَا أَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَقَدْ كَانَ صَلَّاهَا قَبْلَ ذَلِكَ أَنَّ صَلَاةَ مَنِ ائْتَمَّ بِهِ جَائِزَةٌ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ مُعَاذٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، وَرُوِي عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْقَوْمُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهَا صَلَاةُ الظُّهْرِ فَائْتَمَّ بِهِمْ، قَالَ: صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: إِذَا ائْتَمَّ قَوْمٌ بِإِمَامٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنَّهَا الظُّهْرُ فَصَلَّى بِهِمْ وَاقْتَدَوْا بِهِ، فَإِنَّ صَلَاةَ الْمُقْتَدِي فَاسِدَةٌ إِذْ اخْتَلَفَ نِيَّةُ الْإِمَامِ وَنِيَّةُ الْمَأْمُومِ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کے لوگوں میں لوٹ کر آتے اور ان کی امامت کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ہمارے اصحاب یعنی شافعی احمد اور اسحاق کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی فرض نماز میں اپنی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھ چکا ہو تو جن لوگوں نے اس کی اقتداء کی ہے ان کی نماز درست ہے۔ ان لوگوں نے معاذ رضی الله عنہ کے قصے سے جو جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے اس سے دلیل پکڑی ہے،
۳- ابوالدرداء رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو مسجد میں داخل ہوا اور لوگ نماز عصر میں مشغول تھے اور وہ سمجھ رہا تھا کہ ظہر ہے تو اس نے ان کی اقتداء کر لی، تو ابو الدرداء نے کہا: اس کی نماز جائز ہے،
۴- اہل کوفہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جب کچھ لوگ کسی امام کی اقتداء کریں اور وہ عصر پڑھ رہا ہو اور لوگ سمجھ رہے ہوں کہ وہ ظہر پڑھ رہا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھا دے اور لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لیں تو مقتدی کی نماز فاسد ہے کیونکہ کہ امام کی نیت اور مقتدی کی نیت مختلف ہو گئی ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 583]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ہمارے اصحاب یعنی شافعی احمد اور اسحاق کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی فرض نماز میں اپنی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھ چکا ہو تو جن لوگوں نے اس کی اقتداء کی ہے ان کی نماز درست ہے۔ ان لوگوں نے معاذ رضی الله عنہ کے قصے سے جو جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے اس سے دلیل پکڑی ہے،
۳- ابوالدرداء رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو مسجد میں داخل ہوا اور لوگ نماز عصر میں مشغول تھے اور وہ سمجھ رہا تھا کہ ظہر ہے تو اس نے ان کی اقتداء کر لی، تو ابو الدرداء نے کہا: اس کی نماز جائز ہے،
۴- اہل کوفہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جب کچھ لوگ کسی امام کی اقتداء کریں اور وہ عصر پڑھ رہا ہو اور لوگ سمجھ رہے ہوں کہ وہ ظہر پڑھ رہا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھا دے اور لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لیں تو مقتدی کی نماز فاسد ہے کیونکہ کہ امام کی نیت اور مقتدی کی نیت مختلف ہو گئی ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 66 (711)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/ الصلاة 68 (599، 600)، و127 (790)، سنن النسائی/الإمامة 39 (32)، و41 (834)، والافتتاح 63 (985)، و70 (998)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2517)، مسند احمد (3/299، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 65 (1333) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن ان کی رائے صحیح نہیں ہے، اقتداء صرف ظاہری اعمال میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (756)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 583 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 583
اردو حاشہ:
1؎:
لیکن ان کی رائے صحیح نہیں ہے،
اقتداء صرف ظاہری اعمال میں ہے۔
1؎:
لیکن ان کی رائے صحیح نہیں ہے،
اقتداء صرف ظاہری اعمال میں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 583]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 583 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري