شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود استعمال کیا
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا، عرض کیا گیا کہ یہ ابن خطل ہے جو کہ کعبة اللہ کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة مغفر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«سنن ترمذي، ح 1693، وقال:هذا حديث حسن صحيح . صحيح بخاري، ح 1846 . صحيح مسلم، ح 1357 . موطا امام مالك 423/1 ح 975، رواية ابن القاسم:2»
امام ابن شہاب الزہری کے سماع کی تصریح طبقات ابن سعد (139/2۔140) وغیرہ میں موجود ہے۔ «والحمد لله»
«سنن ترمذي، ح 1693، وقال:هذا حديث حسن صحيح . صحيح بخاري، ح 1846 . صحيح مسلم، ح 1357 . موطا امام مالك 423/1 ح 975، رواية ابن القاسم:2»
امام ابن شہاب الزہری کے سماع کی تصریح طبقات ابن سعد (139/2۔140) وغیرہ میں موجود ہے۔ «والحمد لله»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Shamail al-Tirmidhi Hadith 111 in Urdu