🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
لنگی مبارک نصف پنڈلی تک تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي، تُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهَا قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمشِي بِالْمَدِينَةِ، إِذَا إِنْسَانٌ خَلْفِي يَقُولُ: «ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّهُ أَتْقَى وَأَبْقَى» فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ: «أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ؟» فَنَظَرْتُ فَإِذَا إِزَارُهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ
اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سے سنا، وہ اپنے چچا سے بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں ایک دفعہ مدینہ منورہ میں چل رہا تھا کہ ایک شخص میرے پیچھے یہ کہہ رہا تھا: اپنی تہبند اوپر کرو، کیونکہ یہ چیز (میل کچیل سے) بچانے والی ہے اور (کپڑے کو دیر تک) باقی رکھنے والی ہے۔ میں نے کہنے والے کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ معمولی سی دھاری دار چادر ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میرا عمل تیرے لیے نمونہ نہیں ہے؟ میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہبند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کے نصف تک تہی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة إزار رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«مسند احمد (364/5) . السنن الكبريٰ للنسائي (9682.9683) . مسند ابي داود الطيالسي (1195، دوسرا نسخه: 1286)»
اس راویت کی راویہ رہم بنت اسود مجہولۃ الحال ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: «لا تعرف» (تقریب التہذیب: 8593)
مسند حمیدی (810) اور مسند احمد (390/4) وغیرہما کی حدیث اس سے بےنیاز کر دیتی ہے۔ «والحمدلله»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
 
Shamail al-Tirmidhi Hadith 119 in Urdu