شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
بیٹھنے میں انداز عاجزی
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ جَدَّتَيْهِ، عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ قَالَتْ: «فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ»
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا، کہتی ہیں: کہ میں نے آپ کو اس خشوع والے بیٹھنے کے انداز میں دیکھا تو ڈر سے کانپنے لگی۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى جلسة رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
دیکھئیے حدیث سابق: 67، یہ اسی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔
◈ سرین کے بل بیٹھ کر دونوں رانوں کو پیٹ سے ملانا اور دونوں ہاتھوں کا پنڈلیوں کے اوپر حلقہ بنانا، عربی زبان میں «قرفصاء» کہلاتا ہے۔
دیکھئیے حدیث سابق: 67، یہ اسی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔
◈ سرین کے بل بیٹھ کر دونوں رانوں کو پیٹ سے ملانا اور دونوں ہاتھوں کا پنڈلیوں کے اوپر حلقہ بنانا، عربی زبان میں «قرفصاء» کہلاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Shamail al-Tirmidhi Hadith 126 in Urdu