🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا انداز محبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ زَيْدٍ ابْنِ ابْنَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فَمِ الْقِرْبَةِ وَهُوَ قَائِمٌ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَأْسِ الْقِرْبَةِ فَقَطَعَتْهَا»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، (وہاں) ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اٹھ کر مشکیزے کا سر کاٹ (کر اپنے پاس رکھ) لیا۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده ضعيف» ‏‏‏‏ }:
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ براء بن زید ابن بنت انس مجہول الحال راوی ہے، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا۔
➋ ابن جریج مدلس ہیں اور یہ روایت عن سے ہے۔
سفیان ثوری اور شریک القاضی نے بھی یہی روایت عبدالکریم بن مالک الجزری سے بیان کی، لیکن دونوں کی روایات میں سماع کی تصریح نہیں ہے۔
تنبیہ: حدیث سابق (211) صحیح ہے اور اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
 
Shamail al-Tirmidhi Hadith 213 in Urdu