شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
چنبیلی جنت کا پودا ہے
حدیث نمبر: 220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ حَنَانٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُعْطِيَ أَحَدُكُمُ الرَّيْحَانَ فَلَا يَرُدُّهُ، فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو عِيسَى: «وَلَا نَعْرِفُ لِحَنَانٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثَ»
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ریحان (چنبیلی) دی جائے تو وہ اسے رد نہ کرے، بلاشبہ یہ پودا جنت سے آیا ہوا ہے۔“ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ ہم حنان کی کسی اور روایت کو نہیں جانتے۔ نیز فرماتے ہیں کہ امام عبدالرحمن بن ابی حاتم اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں فرماتے ہیں: حنان اسدی اسد بن شریک کے خاندان میں سے ہیں اور وہ صاحب رفیق مسدد کے والد کے چچا تھے (صاحب رقیق سے مراد یہ ہے کہ وہ غلاموں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے تھے)، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ہے کہ ان سے حجاج بن ابی عثمان صواف نے روایت کی ہے، عبدالرحمن بن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات اپنے والد ابوحاتم سے سنی ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى تعطر رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي: 2791 وقال: غريب حسن . . .)، كتاب المراسيل لابي داود (501)»
حسن ابوعثمان (عبدالرحمٰن بن مل) النہدی ثقہ تابعی تھے اور انہوں نے سند میں صحابہ کا نام نہیں لیا، یعنی یہ سند مرسل ہے اور مرسل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔
«(سنن ترمذي: 2791 وقال: غريب حسن . . .)، كتاب المراسيل لابي داود (501)»
حسن ابوعثمان (عبدالرحمٰن بن مل) النہدی ثقہ تابعی تھے اور انہوں نے سند میں صحابہ کا نام نہیں لیا، یعنی یہ سند مرسل ہے اور مرسل جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Shamail al-Tirmidhi Hadith 220 in Urdu