🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسکرانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا، أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] {وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ} [الزخرف: 14] . ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ ضَحِكَ. فَقُلْتُ لَهُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ"
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک سواری کا جانور آپ کے لیے لایا گیا تاکہ آپ اس پر سوار ہوں، انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا اور جب سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو الحمد اللہ کہا پھر یہ دعا پڑھی: «سبحان الذي سخرلنا هذا وما كنا له مقرنين وانا الي ربنا لمنقلبون»، کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس کو مسخر کر دیا، ورنہ ہم اسے مسخر نہ کر سکتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ پھر تین مرتبہ الحمد اللہ، تین بار اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: «سبحانك اني ظلمت نفسي فاغفرلي فانه لا يغفر الذنوب الا انت»، کہ اے اللہ تو پاک ہے میں نے ہی اپنے آپ پر ظلم کیا مجھے معاف فرما دے، بلاشبہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرتا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرائے، میں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ مسکرائے کیوں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا انہوں نے بھی اسی طرح کیا تھا جیسا کہ میں نے کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے، تو میں نے بھی عرض کیا تھا، اللہ کے رسول! آپ مسکرائے کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تیرا رب اپنے بندے پر اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب، میرے گناہ معاف کر دے، تیرے سوا کوئی میرے گناہ معاف کرنے والا نہیں ہے۔ [شمائل ترمذي/باب ما جاء فى ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏صحيح» ‏‏‏‏ }:
«(سنن ترمذي: 3446وقال: حسن صحيح)، سنن ابي داود (2602)»
امام ابواسحاق السبیعی نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔ [ديكهئے السنن الكبري للبيهقي 252/5]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ایسی علت کے ساتھ معلول قرار دیا جو علت قادحہ نہیں ہے، نیز اس حدیث کے شواہد بھی ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
Shamail al-Tirmidhi Hadith 232 in Urdu